کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 134

روایات سے یہ بھی پتا چلتاہے کہ وہ بکریوں کے ریوڑ کےساتھ کسی پہاڑ کے دامن میں منتقل ہوجائے تاکہ فتنوں سے محفوظ رہ سکے۔ ایک حدیث میں ہے کہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم جناب عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتنوں کے دورمیں ایک مسلمان کاکیاکردارہوناچاہیے کے متعلق سوال کیاتو آپ نے جواب میں فرمایا: ’’أمسک علیک لسانک ولیسعک بیتک وابک علی خطیئتک ’’اپنی زبان کو قابو میں رکھو،تمہارا گھر تمہیں کافی ہو،اور اپنے گناہوں پر رویا کرو‘‘۔ الغرض ہر اس امر سے اجتناب کرے جوانسان کو حزبیت کی طرف دھکیلتا ہو۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاکہ اگر مسلمانوں کی جماعت نہ ہو (جس کے ساتھ انضمام نہایت ضروری ہے)تومیں کیاکروں ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’فاعتزل تلک الفرق کلہا‘ یعنی تمام فرقوں سے اپنے آپ کو محفوظ کرلو۔ تنبیہ: اس حدیث میں لفظ ’’الجماعۃ‘‘ آیاہے اس سے کیامرادہے؟آیا مروجہ جماعتیں مرادہیں یاکوئی خاص جماعت مرادہے؟کیونکہ کچھ لوگوں نے اس حدیث کے ظاہری معنی کو لیتے ہوئے اپنی الگ جماعت بنالی کہ اس حدیث کا مصداق ہماری جماعت ہے اس طرح کا مغالطہ دے کر بھولےبھالے عوام کوگمراہ کررہے ہیں،اگر نصوص اور آثار سلف کامطالعہ کریں تو یہ واضح ہوجائےگا کہ اس سے مراد امت کے سلف صالحین کامنہج ہے جوکہ کتاب وسنت کے عین مطابق ہے۔ عظیم صحابی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ’’جماعت‘‘ کی تعریف میں فرماتے ہیں:’’الجماعۃ ماوافق الحق وإن کنت وحدک‘ حق کے مطابق چلنے والوں کانام ’’الجماعۃ‘‘ ہےچاہےتواکیلاہی ہو۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب