کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 136

انہی لوگوں کے بارے میں مولانا الطاف حسین حالی رحمہ اللہ نے کہاہے: بڑھے جس سے نفرت وہ تقریر کرنی جگر جس سے شق ہوں وہ تحریر کرنی گنہ گار بندوں کی تحقیر کرنی مسلمان بھائی کی تکفیر کرنی حزبیت کے فروغ میں ’’ جہالت‘‘ کابھی نمایاں کردارہے،لوگوں کی کم علمی اور جہالت کاناجائز فائدہ اٹھاکر انہیں اپنے مذموم مقاصد کےلیے استعمال کیاجاتاہے،چرب زبانی کی وجہ سےجاہل عوام انہیں عالم سمجھ کر ان سے راہنمائی لیتے ہیں ،خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو بھی گمراہ کردیتے ہیں جیساکہ اس حدیث سے ایسے لوگوں کاکردار واضح ہوتاہے: ’’إن اللہ لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعہ من العباد ولکن يقبض العلم بقبض العلماءحتی إذا لم يبق عالما اتخذ الناس رءوسا جہالا فسئلوا فأفتوا بغير علم فضلوا وأضلوا‘ ’’اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے چھین کر نہیں اٹھائے گا بلکہ علم کو علماء کےاٹھالینے کےساتھ اٹھا لے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے پس ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے پس وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔‘‘ ایسے لوگ حصول علم کےلیےدرست ذرائع استعمال نہیں کرتے، یاتو نااہل قسم کے لوگوں یا غیر منہجی لوگوں کو اپنا معلم بناتے ہیں ،ان کے زہریلے گندے افکار کو شرعی علم سمجھ کر حاصل کرتے ہیں،جبکہ ان لوگوں کا مبلغِ علم سوائے گمراہی کے کچھ نہیں ہوتا۔ راسخین فی العلم علماء کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،اور اپنے آپ کو ان سے بڑا عالم باور کراتے

  • فونٹ سائز:

    ب ب