کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 141
’’ولی اللہ سے مراد اللہ کو پہچاننے والا ، اس کی اطاعت میں ہمیشگی کرنے والا عالم ہے۔‘‘ سیدنا عبد اللہ بن المبارک رحمہ اللہ فرماتےہیں: ’’من استخف بالعلماء ذھبت آخرتہ، ومن استخف بالأمراء ذھبت دنیاہ، ومن استخف بالإخوان ذھبت مروءتہ‘ ’’جو علماء کو حقیر سمجھے اس کی آخرت ضائع ہوگئی ، جو امراء کو حقیر سمجھے اس کی دنیا برباد ہوگئی، اور جو اپنے دوست واحباب کو حقارت سے دیکھے اس کی مروت کا جنازہ نکل گیا۔ ‘‘ امام سہل بن عبداللہ التستری فرماتے ہیں: ’لا یزال الناس بخیر ما عظموا السلطان والعلماء، فإن عظموا ھذین: أصلح اللہ دنیاھم وأخراھم،وإن استخفوابھذین:أفسدوادنیاھم وأخراھم ’’ لوگ اس وقت تک خیر پر رہیں گے جب تک وہ حکمرانوں اورعلماء کرام کی توقیر کرتے رہیں گے، جب وہ ان دونوں کی عزت کرتے ہیں تو اللہ تعالی ان کی دنیا اور آخرت سنوار دیتا ہے، اوراگر ان دونوں کی اہانت کرتے ہیں تو اللہ پاک ان کی دنیا وآخرت بگاڑ دیتا ہے۔‘‘ آج کے ہمارے اس دور میں علماءپر خوب کیچڑ اچھالاجاتاہے۔ ایسےلوگوں کو ان نصوص و آثارسے عبرت حاصل کرناچاہیے۔ (5)ہرقسم کی پارٹیوں سے خواہ ان کاتعلق سیاسی ہو یا مذہبی ان سے قطعی اجتناب کرناچاہیے،خصوصاوہ جماعتیں جو منہجِ حق سے کوسوں دورہیں ان کے قریب بھی نہ پھٹکے ، جو بھی ان کے چکروں میں پڑجاتاہے پھر اسے جان چھڑانامشکل ہوجاتاہے،ان سے کنارہ کشی میں ہی انسان کی عافیت وسلامتی ہے۔ (6) اپنےامراء وحکام کے ساتھ خیرخواہانہ پہلو اختیار کرے،ان کے خلاف خروج یاتنقید جیسے امور سے