کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 142

مکمل طور پر گریز کرے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’الدین النصیحۃ قلنالمن ؟قال للہ ولرسولہ ولکتابہ ولأئمۃ المسلمین وعامتھم‘‘ ’’دین خیرخواہی کانام ہے ہم نے عرض کیا کہ کس کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کےلیے، اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کےلیے،اوراس کی کتاب کےلیے،اور مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے، اور عام لوگوں کےلیے‘‘۔ اس حدیث میں امراء وحکام کے ساتھ خیروبھلائی کاحکم دیاگیاہے،ان کی جائزامور میں اطاعت کرے حدیث میں ہےکہ ’’تسمع وتطيع للأمير وإن ضرب ظھرک وأخذ مالک فاسمع وأطع ‘‘ ’’اپنےحاکم کی اطاعت کرو اگر چہ وہ تجھے مارے اور مال چھینے پھر بھی اس کی اطاعت کرو۔‘‘ اللہ پاک سےیہی دعا والتجاہے کہ وہ ہمیں اور ہماری نوجوان نسل کو اس حزبیت جیسی لعنت سے محفوظ رکھے اور سلف صالحین کے منہج پر چلنے اور اس پر استقامت کی توفیق دے آمین۔ ویرحم اللہ عبدا قال آمینا

  • فونٹ سائز:

    ب ب