کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 158

مولانا ثناء اللہ امرتسری کے اُستاد حدیث حضرت حافظ عبد المنان محدث وزیر آبادی (م1334ھ) فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اگر مجھ سے پوچھا کہ تم آنکھوں سے اندھے تھے ہم نے تم کو عزت عطا کی تم بے علم تھے ہم نے تم کو علم کی دولت سے نوازا اور کتنے ہی بڑے بڑے علماء کو تمہارے حلقۂ شاگردی میں داخل کیا بتاؤ اس احسان کے عظیم بدلے میں ہمارے حضور کیا تحفہ لائے ہو (اس مجلس میں مولانا ثناء اللہ بھی موجود تھے)حافظ صاحب نے مولانا کا ہاتھ پکڑ کر اپنے برابر کھڑا کیا اور فرمایا : ’’ میں اس کے جواب میں بارگاہِ خداوندی میں عرض کروں گا کہ ثناء اللہ امرتسری کو لے کر حاضر ہوا ہوں اور اُمید رکھتا ہوں کہ اس خدمت کی وجہ سے مستحق مغفرت سمجھا جاؤں‘‘۔ ادیانِ باطلہ کی تردید : مولانا ثناء اللہ امرتسری نے جب تعلیم سے فراغت پائی تو آپ نے سب سے پہلے اُس مدرسہ میں تدریس کا آغاز کیا جس میں آپ نے اپنی تعلیم کا آغاز کیا تھا یعنی مدرسہ تائید الاسلام امرتسر ۔ اس مدرسہ میں آپ نے 6 سال تک قرآن وحدیث کی تدریس فرماتے رہے اس کے بعد آپ کا تقرر بحیثیت صدر مدرس مدرسہ اسلامیہ مالیر کوٹلہ میں ہوگیا اور 2 سال تک آپ نے مالیر کوٹلہ میں تفسیر،حدیث اور فقہ کا درس دیا اس کے بعد مدرسہ سے استعفیٰ دے کر اپنے وطن امرتسر واپس تشریف لے آئے اس وقت ملک تین گروہ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف برسرپیکار تھے عیسائی، آریہ، قادیانی۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب