کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 164

بریلویوں، دیوبندیوں،ست دھریوں سے غرض ہر فرقے سے ایک گھنٹہ مسلسل 90 گھنٹے بحث ومذاکرہ کی نوبت آئے تو عالم اسلام کی طرف سے کون کون ہستیاں ہوں گی مجھے معلوم نہیں لیکن پاکستان ، ہندوستان، برما، لنکا، جزیرہ ،جاوا کی طرف سے صرف ایک ہستی ہوسکتی ہے اور وہ شیخ الاسلام مولانا ابو الوفا ثناء اللہ صاحب امرتسری کی تھی۔ مولانا غلام رسول مہر مرحوم ایڈیٹر روزنامہ انقلاب لاہور لکھتے ہیں کہ : حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری کی ساری زندگی دین قیّم کی اشاعت اور کفر وبدعت وطغیان کے رد میں بسر ہوئی ہے اور آج اُن کی چھوٹی بڑی تصانیف کا گراں بہاں ذخیرہ منفعت بخش عوام وخواص ہے۔ مولانا صفی الرحمان مبارک پوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : عمر ہا درکعبہ وبت خانہ نالد حیات تازبزم عشق یک دانائے راز آید بروں شیخ الاسلام مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ ماضی قریب کی ایک عظیم اور عبقری شخصیت تھے جن کی نظیر خال خال ہی منصہ شہود پر جلوہ گر ہوتی ہے ۔ بنا کر دندخوشن رسمےبخاک وخوں غلطیدن خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را  (5) مولانا ابو القاسم سیف بنارسی مولانا ابو القاسم سیف بنارسی بن مولانا محمد سعید محدث بنارسی علمائے فحول میں سے تھے ایک دور تھا کہ پورے برصغیر (راس کماری سے پشاور تک) میں ان تین جلیل القدر علمائے اہلحدیث کا شہرہ تھا اور کوئی اہل حدیث کا جلسہ یا قومی وملی اجتماع ایسا نہ ہوتا تھا جس میں ان تینوں علمائے کرام کی شمولیت

  • فونٹ سائز:

    ب ب