کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 167

میں کامیابی وکامرانی سے ہمکنار ہوئے۔  مولانا ابو القاسم بنارسی آل انڈیا اہلحدیث کانفرنس کے بلا تنخواہ سفیر وواعظ تھے۔  وفات : مولانا ابو القاسم بنارسی نے 25 نومبر 1948ء مطابق 4 صفر 1369ھ بنارس میں وفات پائی ۔  مولانا بنارسی کی وفات پر مولانا محمد حنیف ندوی رحمہ اللہ ہفت روزہ الاعتصام لاہور میں حسب ذیل شذرہ لکھا کہ : علمی حلقوں میں بالعموم اور جماعت اہلحدیث میں بالخصوص یہ خبر بڑے حزن وملال سے سُنی جائے گی کہ حضرت العلام ابو القاسم بنارسی 4 صفر 1369ھ کو جمعہ کے 12 بجے فالج کے شدید حملے سے چل بسے ۔ انا للہ وإنا إلیہ راجعون مرحوم بیگانہ روز گارعالم، شعلہ ابیان مقرر اور نکتہ سنج مناظر تھے حدیث وفقہ کی جزئیات پر گہری نظر رکھتے تھے اسلامی تاریخ جس سے علمائے عربی کو بہت کم لگاؤ ہوتا ہے مولانا کا خاص موضوع تھا اور پھر اسلامی تاریخ کا وہ حصہ جس کا تعلق محدثین کے سیر وسوانح سے ہے وہ تو گویا انہیں ازبر تھا وقت کی تمام علمی وسیاسی تحریکوں میں نمایاں حصہ لیا ابتداء ہی سے جمعیۃ العلماء ہند کےساتھ رہے اور متعدد بار جیل بھی گئے نظریہ اہلحدیث سے تو مرحوم کو عشق تھا جب تک زندہ رہے اس کی اشاعت وتبلیغ میں کوشاں رہے ۔ مرحوم .........کنجا ہی کے تاریخی گاؤں کنجا(گجرات پاکستان) کے ایک غیر مسلم خاندان سے تعلق رکھتے تھے ان کے والد کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نعمت اور صلاح وتقویٰ کی دولت سے نوازا ان پر اللہ تعالیٰ کا دوگونہ فضل تھا یعنی عقیدہ وعمل کی صحت کے ساتھ علم وفضل کی برکتیں بھی ارزانی ہوئیں۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب