کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 170

ہمارے والد صاحب تین بھائی تھے۔سب سے بڑے بھائی کانام اللہ دتا ،ان سے چھوٹے بھائی کا نام فضل دین تھا۔والد صاحب سب سے چھوٹے تھے۔ اور پھر آگے ہم ایک بہن اور دو بھائی تھے۔ میرے بڑے بھائی کا نام محمدشریف تھا۔ بڑے بھائی کا کچھ عرصہ پہلے انتقال ہوگیا۔اور اب ہمشیرہ بھی فوت ہوگئی ہیں۔(غفر اللہ لھما ) سوال : آپ کس برادری سے تعلق رکھتے ہیں؟ الشیخ ارشاد الحق اثری صاحب : کمبوہ برادری کی ذیلی شاخ سندھو کے ساتھ تعلق ہے۔ سوال : پیدائش اور جائے پیدائش سے متعلق کچھ معلومات فراہم کریں؟ الشیخ ارشاد الحق اثری صاحب : مجھے تاریخ ولادت تو یاد نہیں ہے بس بڑے یہی بتلاتے ہیں کہ سنہ 1948ء میں میری ولادت ہے۔ اور وہ بھی اس طرح یاد ہے کہ میرا چچا زاد بھائی جس کا نام مرشد ہے وہ مجھ سے چھ ماہ بڑا ہے اور وہ سنہ1948ء کے اوائل میں پیدا ہوئے تھے۔ اُس وقت ہمارے والدین فورٹ عباس کے ایک نواحی گاؤں میں مقیم تھے۔ کچھ عرصہ بعدتقریباً سن 1950ءمیں لیاقت پور منتقل ہوگئے۔ ریاست بہاولپور میں زمینیں الاٹ ہوئیں تو آدھا مربع زمین لی اور کام بھی کیا۔پرچون کی دکان کاکام اورغلہ منڈی میں بھی دکان بنائی۔ سوال : تعلیم کہاں حاصل کی، نیز اپنے محسن و مربی اساتذہ کے بارے میں کچھ تفصیلات سے آگاہ کریں۔ الشیخ ارشاد الحق اثری صاحب : میں نے سنہ 1961ء میں مڈل کرلیا تھا۔ اسی اثناء میں قرآن مجید کی بنیادی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسہ قاسم العلوم میں مولانا بشیر صاحب اور مولانا محمد حیات رحمہ اللہ صاحب ;سے دو سال تک درس نظامی کی ابتدائی کتب پڑھیں۔ جن میں کافیہ ، ہدایۃ النحو ،علم النحو، علم الصرف، قدوری ،فارسی کی بھی کتابیں پند نامہ ، گلستان سعدی اور تیسیر المنطق وغیرہ شامل تھیں۔ یہ دونوں اساتذہ حنفی تھے، یہ کتابیں ان سے پڑھیں۔ پھر سنہ 64 میں فیصل آباد جامعہ سلفیہ میں پڑھنے کے لئے گیا ۔ میں تو کبھی گھر سے باہر نکلا نہیں

  • فونٹ سائز:

    ب ب