کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 173

ہم نے حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ سے بخاری پڑھی۔حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ وقت کی پابندی کا بہت اہتمام کرتے تھے ، ایک دفعہ شدید بارش ہورہی تھی ہم نے کہا کہ آج حافظ صاحب رحمہ اللہ پڑھانے نہیں آئیں گے، سردیوں کے دن ہیں اور اتنی شدید بارش ہورہی ہے ، اتنی بارش میں کیسے آئیں گے لہٰذاڈیڑھ گھنٹہ آرام سے بیٹھیں گے۔اورباقی بعد میں ابو البرکات اور ایک حنفی استاذ کے سبق ہوتے تھے کہ ان کا پیریڈ ہوگا۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ مسجد کا خادم بھاگا بھاگا آیا کہ تم یہاں بیٹھے ہو ،حافظ صاحب رحمہ اللہ آگئے ہیں، وہ نفل پڑھ رہے ہیں۔ حافظ صاحب رحمہ اللہ جب آتے ہم ان کی جوتیاں پکڑتے اور عصاپکڑتے وہ نفل پڑھ کر آتے اور اپنی مسندپر آکر بیٹھتے اور خطبہ مسنونہ کے بعد سبق شروع کرتے۔ یہ ان کا خصوصی اہتمام تھا کہ اتنی شدید بارش میں بھی بروقت آگئے تھے۔ اور ہم تو ان سے بڑے مانوس تھے، ان سے سوال و جواب کرتے تھے، بلکہ ان کے گھر بھی چلےجاتے تھے۔مسلم مسجد میں وہ ظہر عصر پڑھتے تھے۔ ہم عصر میں پھر ملاقات کرنے چلے جاتے تھے۔ اساتذہ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم نے کچھ نہیں پڑھا بس اساتذہ کی خدمت کی ہے ان کی دعائیں لی ہیں۔اور بس حافظ صاحب رحمہ اللہ کی بہت ساری باتیں ہماری سمجھ سے اوپر ہوتی تھیں،سمجھ نہیں آتی تھیں۔لیکن عقیدت میں سنتے تھے۔ بلکہ ایک دفعہ ابوالبرکات رحمہ اللہ نے فرمایا کہ’’ آپ بخاری شریف کا درس دیتے ہیں بہت مشکل باتیں کرتے ہیں لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتی آپ آسان آسان باتیں کیا کریں !! ‘‘حافظ صاحب رحمہ اللہ فرمانے لگے کہ احمد! ہر بات ہر آدمی کے سمجھنے کی نہیں ہوتی جن کو سمجھ ہوتی ہے

  • فونٹ سائز:

    ب ب