کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 175

مشکوٰۃ میں ہے اور کتاب کو اندازہ لگا کر کھولتے ایک دو صفحے آگے یا پیچھے اور روایت پر پہنچ جاتے تھے۔ مجھے اچھی طرح تو یاد نہیں جتنا یاد آتا ہے کہ 83ءمیں ان کا انتقال ہوا ہے۔یہ ابھی جنت المعلیٰ مکہ مکرمہ میں مدفون ہیں۔بہرحال وہ بھی ادارہ علوم اثریہ میں استاد تھے۔ اور مولانا محمد عبدہ صاحب رحمہ اللہ بخاری اور مقدمہ ابن الصلاح پڑھاتے تھے۔ سوال : ادارہ علوم اثریہ سے اسی وقت سے وابستہ ہیں؟ الشیخ ارشاد الحق اثری صاحب : جی ہاں! یہ دوسال کا کورس کیا پھر وہیں سے فارغ ہوکر ادارے ہی کے ہوکر رہ گئے۔پھر کئی مسائل پیدا ہوگئے۔ مولانا عبدہ صاحب رحمہ اللہ جامعہ سلفیہ چلے گئے۔ مولانا عبداللہ اور مولانا اسحاق ; حج پر گئے۔ میں اکیلا رہ گیا یہ 74ء 75ء کی باتیں ہیں۔ ان کے جانے کے بعد تدریس کے حوالے سےسارا بوجھ مجھ پر آگیا۔ ایک سبق مولانا خالد نے لے لیا اور بخاری ، مقدمہ ابن الصلاح مجھے پڑھا نا پڑا۔ ڈیڑھ دو مہینے کے بعد جب وہ حج سے واپس آئے۔کچھ میرے لئے آسانی ہوئی۔ پڑھائی کا سلسلہ سات آٹھ سال تک باقی رہا ،اسی اثناء میں العلل المتناھیۃ پر کام کیا۔ بخاری شریف ہم ساری نہیں پڑھاتے تھے ،سید بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ نے ابواب منتخب کرکے دئیے تھے، انہی منتخب ابواب کو ہم پڑھاتے تھے ،یہاں افسوسناک بات یہ ہے کہ جس کاپی میں سید بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ نے ہمیں صحیح بخاری کے ابواب انتخاب کرکے دئیے تھے، وہ تمام ابواب انہوں نے اپنے قلم سے لکھ کر دیئے تھے۔ ایک دفعہ ایک مجلس میں میں نے حافظ شریف صاحب حفظہ اللہ سےاس حوالے سے ذکر کردیا کہ یہ ابواب سید بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ نے منتخب کرکے دئیے ہیں، وہ فرمانےلگے کہ وہ کاپی مجھے دکھائیں، میں وہ انتخاب دیکھنا چاہتا ہوں۔میں نے وہ کاپی اسی طرح حافظ شریف صاحب حفظہ اللہ کو دے دی۔میں نے غفلت کی کہ ان سے کئی سال تک اس بارے میں نہ پوچھا اور پھر جب میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے کاپی مجھے واپس کردی تھی؟انہوں نے کہا کہ میں نے تو واپس

  • فونٹ سائز:

    ب ب