کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 176

کردی تھی، ان کے ذہن میں بھی یہی تھا کہ میں نے واپس کردی ،لیکن وہ کہاں گئی کوئی پتہ نہیں۔ البتہ صحیح بخاری کا جو نسخہ ادارے میں ہے اس کے ابواب پر میں نے نشانات لگالئے تھے ۔ اب دل میں آتا ہے کہ کسی کو کہہ کر وہ نقل کروالوں۔ شاہ صاحب رحمہ اللہ ا دارہ علوم اثریہ کے ممتحن رہے ۔ دو دو، تین تین دن تک ہمارے پاس رہتے تھے۔ بلکہ جب میں نیو سعید آباد آتا تھا تو نیو سعید آباد کے مقتدی کہتے تھے کہ’’ لائل پور سے مولوی آگیا ہے شاہ صاحب کو لینے ۔ ‘‘میں ان کی خدمت میں آٹھ آٹھ، دس دس دن رہتا،ان سے استفادہ بھی کرتا۔اور ان سے مراجعت بھی ہوتی۔ کتابوں کی تحقیق کے حوالے سے میرا پہلا کام ’’اعلام اھل العصر‘‘ کا سارا کام میں نے شاہ صاحب رحمہ اللہ کو سنایا ہے۔ میں نے ان سے باقاعدہ کوئی کتاب نہیں پڑھی۔ میں نے’’ امام ابن ماجہ اورعلم حدیث‘‘ کا جواب لکھا تھا ،نعمانی کا اعتراض اور نیچے اثری کا جواب، وہ سارا مسودہ میں نے شاہ صاحب رحمہ اللہ کو سنایا ۔پھر مشورہ ہوا جس میں عطاء اللہ حنیف ،مولانا ابوحفص عثمانی، سید بدیع الدین شاہ صاحب ،مولانا محمد عبدہ صاحب، مولانا عبداللہ صاحب رحمھم اللہ ۔ شاہ صاحب کا فرمانا تھا کہ اس کتاب کو اسی طرح چھاپ دیں۔یہ 72ء 73ء کی بات ہے۔ مولانا عطاءاللہ صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس سارے کام کو امام مالک رحمہ اللہ کے نام پر لکھو تو اس کی حیثیت زیادہ ہوگی ۔وگرنہ یہ کتاب صرف جوابی ہوگی اور اس کی اہمیت نہیں ہوتی جبکہ جو مستقل کتاب ہوتی ہے اس کی حیثیت ہوتی ہے۔ اس رائے کو سب نے پسند فرمایا۔ پھر اسی اسلوب میں اس مواد کو لکھنا شروع کیا۔جس اسلوب میں ابن ماجہ اور علم حدیث تھی ،بنیاد وہی تھی لیکن اس کو امام مالک رحمہ اللہ کے اسلوب میں، ان کا تعارف وغیرہ تو وہ تقریباً 70، 80 صفحات کے قریب تیار ہوگئی تھی، لیکن وہ پھر ایسا رکا کہ وہ جہاں کا ہے وہ وہی ہے۔ اب اسی کا ایک حصہ کتاب الآثار سے متعلقہ الاعتصام میں چھپا ہے۔ اب تو مراجع بہت زیادہ ہیں، اس دور کی لکھی ہوئی چیزیں مواد کے لحاظ سے بہت پیچھے ہیں۔ یہ ان شاء اللہ مقالات کے تیسرے حصے میں

  • فونٹ سائز:

    ب ب