کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 177

آئے گا۔ سوال : زندگی کا ایک اہم ترین حصہ ازدواجی زندگی کا ہوتا ہے، اس حوالے سے بھی تھوڑی گفتگو ہوجائے۔ الشیخ ارشاد الحق اثری صاحب : نور پور میں جو ہمارےبرادری کے لوگ تھے ان کے ساتھ میرے سسرال کی رشتہ داری تھی اورمیرے سسرال والے اہل حدیث تھے۔اور اہل حدیث ہونے کے ناطے ہی یہ رشتہ ہوا تھا۔قومی بنیاد پر نہیں ہوا تھا۔میرے سسرال والوں نے اپنے نورپور والے رشتہ داروں سے کہا کہ بیٹی کے لئے کوئی رشتہ بتلاؤ، تو ان کے انہی رشتہ داروں نے جواب دیا کہ رشتہ ہے اور وہابی ہے۔ میری خوشدامن (ساس ) نے جب یہ سنا اور کہنے لگی رشتہ تو ٹھیک ہے لیکن دور بہت ہے ، کہاں فیصل آباد سے شیخوپورہ اور شیخوپورہ سے لیاقت پور ۔ آنے جانے میں بڑی مشکل ہوگی۔ لیکن جو ہوتا ہے قسمت میں ہوتا ہے ۔ بہرحال بحمداللہ یہ رشتہ ہوگیا۔ اور اب لیاقت پور میں خوشی ،غمی میں آنا جانا بھی رہتاہے۔بلکہ لیاقت پور میں ہمارے دوست تھے، ان کا نام عبداللہ تھا۔(ان کا بیٹا میرے ساتھ اسکول پڑھتا تھا)۔ تو جب کبھی وہاں پروگرام ہوتا تو حافظ اسلم صاحب وغیرہ اعلان کرتےہوئے میرا نام لیتے ہوئے’’ ارشاد الحق فیصل آبادی‘‘ کہتے ،تو وہ لڑپڑتے کہ اپنے آدمی کو دھکیل کر فیصل آبادی بنارہے ہو، لیاقت پوری کہا کرو ۔ ویسے لیاقت پور سے کئی علماء کا تعلق رہا ہے، مثلاًحافظ سلمان اوڈصاحب رحمہ اللہ لیاقت پور کے تھے۔یہ بڑے صاحبِ ثروت تھے اور جماعت غرباء کے ساتھ ان کا تعلق تھا۔اٹھارہ بیس سال پہلے فوت ہوچکے ہیں، میں نے اور انہوں نے مولانا بشیر صاحب رحمہ اللہ سے ترجمہ قرآن پڑھا۔حافظ سلمان اوڈ صاحب مولانا عبداللہ اوڈ صاحب کے بیٹے تھے۔ مولانا عبداللہ اوڈ رحمہ اللہ پوری اوڈ برادری کے امیر تھےاوران کا بہت رعب و دبدبہ تھا۔ حیدرآباد میں ایک دفعہ دو پارٹیوں میں اختلاف ہوگیا انہوں نے دونوں کو بلایاتو وہ ان کے سامنے لڑنا شروع ہوگئے تو

  • فونٹ سائز:

    ب ب