کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 178

انہوں نے کہا کہ لڑو !!میرے سامنے لڑو ۔ بس ان کے کہتے ہی ڈانگیں چل پڑیں۔اوروہ بیٹھے دیکھ رہے ہیں اور لڑائی ہورہی ہے۔ مولانا عبداللہ صاحب رحمہ اللہ نے اپنی لاٹھی جب زمین پر ماری، بس جہاں کہیں کسی کی لاٹھی تھی وہیں رک گئی۔ درمیانے قد کے ،بھاری آواز، جری آدمی تھے۔ اسی طرح لیاقت پور میں مولانا عبدالرحمان سلفی صاحب بھی ایک جلسے میں گئے ہیں ۔ اور ایک موقع پر مولانا عبدالقہار صاحب رحمہ اللہ بھی آئے تھے،وہ بڑے قد آور شخص تھے۔ سوال : خطبہ جمعہ پڑھانے کا آغاز کب سے ہوا؟ الشیخ ارشاد الحق اثری صاحب : حافظ عبداللہ رحمہ اللہ جامعہ سلفیہ میں جمعہ پڑھاتے تھے۔ جب وہ چھٹی پر ہوتے تو کئی مرتبہ مولانا ابو حفص عثمانی صاحب رحمہ اللہ (اس وقت جامعہ کے ناظم تھے۔) نے مجھے حکماً فرمایا کہ بیٹا آپ جمعہ پڑھاؤ۔ ابتدائی دور طالبعلمی میں جامعہ سلفیہ کے اسٹیج پر جمعہ پڑھانے کی سعادت حاصل ہے۔ ء ء کی بات ہے۔ ثالثہ سے خامسہ کے دوران جمعہ پڑھا دیا۔ پھر جب گوجرانوالہ میں گیا تو مضافات سے بھی کوئی جمعہ کے حوالے سے آتا تو مولانا بنیامین صاحب رحمہ اللہ ہم دو ساتھیوں میں سے ایک کو بھیجا کرتے تھے۔ ایک شاہ صاحب تھے ،(فوت ہوگئے ) اور دوسرا میں ۔کبھی کبھی مولانا بنیامین صاحب نہ ہوتے تو اکثر ان کی عدم موجودگی میں ، میں جمعہ پڑھاتا تھا۔ جب ادارہ علوم اثریہ کی بنیاد رکھی تو پہلے یہاں مولانا محمد جہلمی صاحب جمعہ پڑھاتے تھے۔وہ جب ادارہ سے فارغ ہوکر چلے گئے تو ان کے بعد سے 71ء 72ء سے جمعہ میں پڑھاتا رہا۔درمیان میں کچھ عرصہ قریب ہی ایک محلہ ہےوہاں مولانا عبداللہ رحمہ اللہ کے اشارہ پر پڑھایا، اس کا بھی ایک سبب تھا، ساری باتیں نہیں بتلائی جاتیں۔لیکن جب دوبارہ اس ادارے کی تعمیرِ نو ہوئی تو پھر مولانا اسحاق چیمہ صاحب رحمہ اللہ نے کہا کہ آپ یہاں آجائیں۔ تو اب تک اسی وقت سے جمعہ پڑھا رہا ہوں۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب