کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 179

بزم ادب مدارس میں ہوتی ہے۔ اس میں تقریریں کرتے تھے، اسی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جھجھک ختم کردی تھی۔ ان بزموں کی برکت سےہی یہ فائدہ ہوا۔اور باقاعدہ اس بزم کی نگرانی اساتذہ کیا کرتے تھے۔اور یہ جامعہ سلفیہ میں ہر جمعرات کو ہوا کرتا تھا۔ طلبہ کے لئے نصیحت : اس میں شریک ہونا چاہئے اس میں کبھی بھی کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جو ان مجالس میں شریک نہیں ہوا وہ بعد میں بھی جھجھک کا شکار ہی رہتا ہے۔ سوال : کیا جامعہ سلفیہ میں اس دور میں بھی طلبہ کے لئے ہفتہ وار تقاریر کی تربیت کا انتظام ہوتا تھا۔ الشیخ ارشاد الحق اثری صاحب : جی ہاں بالکل!بلکہ ہمارے دور میں’’ ناد ِعربی‘‘ میں عربی میں بھی تقاریر ہوتی تھیں۔مولانا محمود غضنفر رحمہ اللہ اس کے منتظم ہوتے تھے۔ مجھے کہنے لگے کہ آپ عربی میں تقریر کریں۔ ہم نے کہا کہ اردو میں ہمیں آتی نہیں اور آپ عربی میں تقریر کرنے کا کہہ رہے ہیں!! حالانکہ میں اس وقت دیوبندی تھا۔ (یہاں بات کاٹتے ہوئے سوال کیا کہ آپ دیوبندی حیاتی تھے یا مماتی،جواب میں فرمانے لگے کہ اس وقت ان چیزوں کا پتہ نہیں ہوتا تھا۔) لیکن وہ کہنے لگے کہ تم نے ضرور تقریر کرنی ہے ،مجھے شرارت سوجھی میں نے نماز کے حوالے سے ایک دو آیات و احادیث بیان کرکے پھر صحیح ابن خزیمہ کی روایت وضع یدہ علی صدرہ والی روایت کے بارے میں ، میں نے کہا کہ یہ روایت صحیح نہیں۔ ہاتھ ناف کے نیچے باندھنے چاہئیں۔ اور اس پر ہنگامہ ہوگیا اور صدر نے بھی لتاڑنا شروع کردیا اور میرے پاس عربی کے الفاظ ختم ہوگئے، وہ عربی میں بات کررہے ہیں اور میں اردو میں۔میں نے کہا کہ یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ یہ بات بڑھتے بڑھتے بڑھ گئی حتیٰ کہ ناظمِ جامعہ کے پاس پہنچی، میرے پاس اس وقت خلاصۃ تہذیب الکمال تھی، میں نے کہا کہ مؤمل بن اسماعیل کا ترجمہ پڑھو، ان کو امام بخاری رحمہ اللہ نے منکر الحدیث کہا ہے۔ آٹھویں کلاس میں ایک طالب علم پڑھتے تھے حافظ قدرت اللہ صاحب ،وہ کہنے لگے کہ یہ ضمیر کا مرجع قریب ہوتا ہے یہ اس دوسرے راوی کے بارے میں کہہ رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کو اس فن کا بالکل پتہ نہیں ہے۔ آپ

  • فونٹ سائز:

    ب ب