کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 180

اس میں حصہ بالکل نہیں لیں۔وہ ناراض ہوگئے حتی کہ مجھے کتاب چھوڑکر کمرے سے بھاگنا پڑا کہ کہیں میری پٹائی نہ شروع کردیں۔ اتنی تلخی شروع ہوگئی ،حافظ قدرت اللہ صاحب وہ کتاب لے کر عثمانی صاحب کے پاس چلے گئے اور کہنےلگے کہ وہ جو ارشاد (حنفی) آیا ہے، آج اس کے ساتھ یہ بات ہوئی ، وہ کہنے لگے اس نے بات صحیح کہی تم غلط کہہ رہے ہو۔ سوال : کتابیں جمع کرنا بڑامشکل کام ہے۔ آپ نے کتابیں کیسے جمع کیں؟ الشیخ ارشاد الحق اثری صاحب : کتابیں جمع کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ بہت مشکل سے دانے ملتے ہیں اور کبھی کبھی ملتے ہیں۔ جب ادارہ نیا نیا شروع ہوا تو مولانا اسحاق چیمہ صاحب رحمہ اللہ مجھے اور خالد سیف صاحب کو پیسے دیتے تھے کہ لاہور سے جاکر کتابیں لے کر آؤ۔ ہم جاتے تھے اور ہمارے کام کی کوئی کتاب نہیں ہوتی تھی، ایک دو کتابیں ملتی، باقی ویسے ہی خالی ہاتھ آجاتے۔ اس لئے کہ ہر کتاب تخصص کے لئے ضروری نہیں ہوتی تھی۔ وہاں کتاب وہ چاہئے تھی جو مرجع کی حیثیت رکھتی ہو۔ سوال : آج کل آپ کی کیا مصروفیات ہیں؟ الشیخ ارشاد الحق اثری صاحب : ادارہ علوم اثریہ میں مصروفیت جو ہے اس سے تو آپ واقف ہی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ جامعہ تربیہ میں تدریس کررہے ہیں، اور اس کی بھی ترتیب یہ ہے کہ پہلے شرح نخبۃ پڑھاتا ہوں یہ ختم ہوتو تدریب الراوی اور اس کے ساتھ الجرح والتعدیل اور اس کے بعد دراسۃ الاسانید اور تخریج کا طریقہ۔ اور اس حوالے سے میں کتاب سے نہیں پڑھاتا بلکہ میرے اپنے نوٹس ہیں کہ کتب تخریج کون سی ہیں اور احادیث تلاش کرنے کا طریقہ اور رجال کے حوالے سے۔ سوال : اپنے اسفار کے حوالےسے کچھ بتائیں۔ الشیخ ارشاد الحق اثری صاحب : الحمدللہ کئی بار حج کیا ۔ اور امریکہ، برطانیہ ،سعودیہ ،دبئی، بحرین، کویت سمیت کئی ایک ممالک کے اسفار کئے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب