کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 182

اللہ حنیف صاحب رحمہ اللہ تھے۔ تو وہ رد نہ کرسکا اور اپنا نسخہ بھیج دیا۔ وہ النکت کا نسخہ ایک مہینے میں پڑھنے سے فارغ ہوکر سردیوں کے دن تھے۔ راتوں میں نقل کیا۔توضیح الکلام کا پہلا ایڈیشن صحاح ستہ کے مباحث میں سکوت ابی داؤد کی بحث میں نے اس سے نقل کی۔ اسی کے حوالے دئیے۔ دوسرے ایڈیشن تک مطبوع ہوگئی تھی پھر اس مطبوع کے حوالے دئیے تھے۔ میں نے وہ نقل کیا تھا نیلی سیاہی سے کا لی سیاہی سے نہیں۔ کالی سیاہی اور نیلی سیاہی: ہمارے لیاقت پور میں ایک حکیم صاحب تھے فوت ہوگئے وہ مولاناعبداللہ صاحب کھپیانوالی کے شاگرد تھے( مولانا عبداللہ صاحب رحمہ اللہ بہت صاحب علم تھے۔ جب مولانا عبدالرحمان مبارکپوری رحمہ اللہ جب تحفۃ الاحوذی لکھ رہے تھے تو انہوں نے اونٹ کے کجاوے پر کتابیں رکھ کر تعاون کے لئے ان کے پاس مبارکپور بھیجی تھیں۔اس کاحوالہ مولانا عبدہ صاحب رحمہ اللہ بھی اور وہ حکیم صاحب رحمہ اللہ بھی دیتے تھے۔ساہیوال میں ان کے فرزند حافظ عبدالمنان رحمہ اللہ تھے ،وہ بھی فوت ہوگئے۔ مولانا عبدالرحمان مبارکپوری رحمہ اللہ کے بعض رسائل مولانا عبداللہ کھپیانوالی رحمہ اللہ نے چھپوائے۔ آپ کبھی تحفۃ الاحوذی کا پہلا طبع کا نسخہ دیکھیں۔ پہلے نسخے کے آخری صفحے پر یہ لکھا ہے کہ مولانا عبداللہ کھپیانوالی رحمہ اللہ سے یہ کتاب مل سکتی ہے اور ان سے یہ یہ کتاب مل سکتی ہے۔) ان کو یہ نقل کردہ کتاب دکھائی تو انہوں نے النکت کو نقل کرنے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ نے اچھا کام کیا لیکن نیلی سیاہی سے نہیں بلکہ کالی سیاہی سے لکھنا تھا۔ اس لئے کہ نیلی سیاہی تھوڑے عرصے بعد مدہم ہوجاتی ہے اور کالی سیاہی مدہم نہیں ہوتی۔ یہ بات مجھے انہوں نے بتا ئی تھی اور اس کے بعد میں نے کبھی نیلی سیاہی استعمال نہیں کی۔ ہماری یہ گفتگو چل ہی رہی تھی کہ عشاء کی اذان کی آواز آنے لگی اور یہیں ہماری یہ مجلس اختتام پذیر ہوئی ورنہ شاید ابھی بہت کچھ تھا ، جو شیخ ارشاد الحق اثری صاحب حفظہ اللہ کی شخصیت کے

  • فونٹ سائز:

    ب ب