کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 22
’’ قد صدق عبدی، فأفرشوہ من الجنۃ، وافتحوا لہ بابا إلی الجنۃ، وألبسوہ من الجنۃ " قال: ’’فیأتیہ من روحھا وطیبھا‘‘ ’’میرے بندے نےسچ کہا ،اسے جنتی بچھونا دے دو اور جنت کی جانب سے ایک دروازہ کھول دو اور جنتی لباس پہنا دو۔ اسے جنت کی ہوا اور خوشبو محسوس ہوتی رہے گی۔ اور کافر سے بھی یہی سوالات کئے جائیں گے اور وہ ان سوالات کے جوابات نہ دے پائے گا ،تو آسمان سے آواز آئے گی: ’’کذب، فأفرشوہ من النار، وألبسوہ من النار، وافتحوا لہ بابا إلی النار " قال:فیأتیہ من حرھا وسمومھا‘‘ ’’اس نےجھوٹ بولا، اسے جہنمی بچھونا دے دو ،جہنمی لباس پہنا دو اور جہنم کی جانب سے ایک دروازہ کھول دو۔ اسے جہنم کی گرمی اور شدت محسوس ہوتی رہے گی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک سورج گرہن کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک واقعہ کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ اس دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ اپنی جگہ سےپیچھے ہٹے اور ایک دفعہ اپنی جگہ سے آگے بڑھے، لوگوں نے اس حوالے سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے دیکھا کہ آپ اپنی جگہ سے کوئی چیز لے رہے تھے، اور پھر آپ کو پیچھے ہٹتے ہوئے بھی دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ إنی رأیت الجنۃ، فتناولت عنقودا، ولو أصبتہ لأکلتم منہ ما بقیت الدنیا، وأریت النار، فلم أر منظرا کالیوم قط أفظع، ورأیت أکثر أھلھا النساء‘ ’’میں نے جنت کو دیکھا، تو اس میں سے ایک خوشہ لینا چاہا اگر میں اسے پا لیتا تو تم اس سے اس وقت تک کھاتے جب تک دنیا قائم ہے اور مجھے جہنم دکھلائی گئی کہ آج کی طرح کا منظر میں نے کبھی نہ دیکھا تھا اور جہنم میں زیادہ عورتوں کو دیکھا۔‘‘پھر لوگوں نے جب جہنم میں عورتوں کی کثرت کا سبب پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ بھی بتلائی کہ وہ اپنے شوہروں کی نافرمانی اور ناشکری کرتی ہیں۔ ‘‘ ملخصاً