کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 23
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عرضت علی الجنۃ والنار، فلم أر کالیوم فی الخیر والشر، ولو تعلمون ما أعلم لضحکتم قلیلا ولبکیتم کثیرا‘‘ ’’میرے سامنے جنت اورجہنم کو پیش کیا گیا تو میں نے آج کے دن کی طرح کوئی خیر اور کوئی شر کبھی نہیں دیکھی اور اگر تم بھی وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم لوگ کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے۔‘‘ حدیث کے الفاظ ہیں کہ پھر صحابہ کرام یہ سنتے ہی اپنے سروں کو جھکا کررونا شروع ہوگئے ۔ سیدناکعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انما نسمۃ المؤمن طائر فی شجر الجنۃ حتی یبعثہ اللہ عز وجل إلی جسدہ یوم القیامۃ‘‘ ’’ مومن کی روح جنت کے درختوں پر پرواز کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن اس کے جسم کی طرف بھیج دے گا۔‘‘ جامع ترمذی کے الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’إن أرواح الشھداء فی طیر خضر تعلق من ثمر الجنۃ أو شجر الجنۃ ’’شہدا کی روحیں سبز پرندوں کے اندر ہیں جو جنت کے پھلوں یا درختوںمیں سے کھاتی پھرتی ہیں۔‘‘ اس روایت سے روح کا جنت میں قیامت کے دن سے پہلے ہی داخل ہونا ثابت ہوجاتا ہے،