کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 28

اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنےگھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ۔ اس پر تند خو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہیں ۔ اللہ انہیں جو حکم دے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کچھ کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ قرآن مجید جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ : [وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَکَ الْاَقْرَبِيْنَ ٢١٤؀ۙ ] [الشعراء : 214] اس آیت کے نزول کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے لوگوں کو بلایا اور ان کے ہر ہر قبیلے کو مخاطب کرکے فرمانےلگے: ’’ اے قریش کی جماعت! تم اپنی جانوں کو بچاؤ، میں اللہ کے عذاب سے تمہیں کچھ بھی نہیں بچا سکتا، اے بنی عبد مناف! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ بھی نہیں بچا سکتا، اے عباس بن عبدالمطلب میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ بھی نہیں بچا سکتا اور اے صفیہ! (رسول اللہ کی پھوپھی) میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کیسے بچا سکتا ہوں اور اے فاطمہ بنت محمد! تم مجھے سے میرا مال جس قدر چاہو لے لو، مگر میں اللہ کے عذاب سے تمہیں نہیں بچا سکوں گا۔‘‘{ ان نصوص اور اس مفہوم کی بے شمار آیات و احادیث میں واضح ہے کہ جہنم کے بارے میں یہ بیانات انذار کے لئے ہیں، تاکہ انسان ان گناہوں اور معاصیات سے محفوظ رہے جو اسے جہنم میں لے جانے کا سبب بنتے ہیں ، اور ان حسنات کو بجالائے جو اسے جنت کی نعمتوں کا وارث بنادیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جہنم کا خوف کامل طور پر ہمارے دلوں میں ڈال دے اور اس کے عذاب سے ہمیں محفوظ رکھے،اور جنت کا شوق کامل طور پر ہمارے دلوں میں ڈال دےاور جنت کی نعمتوں کا مستحق بنادے۔ آمین

  • فونٹ سائز:

    ب ب