کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 36

اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَاِنَّا اِنْ شَأْءَ اللہ بِکُم لاَحِقُوْنَ نَسْأَلَ اللہُ لَنَا وَلَکُمُ الْعَافِیَۃِ ”سلامتی ہوتم پر اے مؤمن اورمسلمان گھر والو ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ضرور ملنے والے ہیں اورہم اپنے اورتمہارے لیئے اللہ سے خیر وعافیت مانگتے ہیں“۔ (1)سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ کے قبرستان کے پاس سے گزرے تو ان کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا( یعنی دعامانگی)۔  اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْقُبُوْرِ یَغْفِرُاللہَ لَنَا وَلَکُمْ اَنْتُمْ سَلَفَنَا وَنَحْنُ بِالْاَثْرِ ”اے اہل قبور!تم پر سلامتی ہو ،اللہ تعالیٰ ہمیں اورتمہیں بخشے تم ہم سے پہلے جانے والے ہواورہم بعد میں آنے والے ہیں۔“ ان دونوں سلاموں میں سے جوسلام بھی پڑھے کافی ہے ،اوراگر دونوں سلام پڑہے تب بھی صحیح ہے۔ فصل: باربار قبر مبارک پر جانا مسنون نہیں ہے ،بلکہ پوری مسجد میں جس جگہ بھی درود اور صلوٰۃ زیادہ سے زیادہ پڑھا جائے تو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا ۔ سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ اورنہ میری قبر کو عید (بار بارآنے والی جگہ) بناؤ اور مجھ پر درود پڑھو کیونکہ تمہارا درود مجھے پہنچے گا ،تم جہاں بھی ہو ۔ سیدناعلی بن حسین یعنی زین العابدین سے روایت ہے کہ انہوں نے کسی آدمی کو دیکھاکہ وہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس ایک کھڑکی سے داخل ہوکر دعامانگا کرتا تھا۔ سیدنازین العابدین نے اسے منع کیا اورکہا کہ میں تمہیں وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے اپنے والد سے سنی او رانہوں نے میرے دادا (سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) سے سنی کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میری قبر کو عید نہ بناؤ اورنہ اپنے گھروں کوقبرستان بناؤمجھ پر درود وسلام پڑھتے رہاکرو۔کیونکہ تمہاراسلام مجھے پہنچتاہے چاہے تم کہیں بھی ہو۔  ان دونوں حدیثوں سے ثابت ہواکہ بار بار قبرمبارک پرجانا اوردعاسلام پڑھنا مسنون طریقے کے خلاف ہے اور اسی معنی کی ایک حدیث سنن سعید بن منصور میں حسن بن حسن بن علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب سے مروی ہے ۔اس کے آخرمیں یہ الفاظ ہیں کہ:’’ماانتم ومن بالاندلس الاسواء‘‘باربار آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اگرتم یہاں درود پڑھو یا کہ شہراندلس میں پڑھو دونوں برابرہیں ۔ لہٰذا ایک دفعہ جانا ہی کافی ہے باقی عورتوں کو تو قبرمبارک پر ہر گز نہیں جانا چاہیے کیونکہ عورت کے قبرپر جانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے تنبیہ اورلعنت فرمائی ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب