کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 43

یہ قرآن کی لغوی تفسیر کا کیسا شاہکار نمونہ ہے۔ پاپوش میں لگائی کرن آفتاب کی جوبات کی خدا کی قسم لاجواب کی زکوٰۃ کے بارے میں بھی پرویزیوں کی لغوی تفسیر ملاحظہ ہو: ’’ایتائے زکوٰۃ ‘‘ اسلامی حکومت کا بنیادی فریضہ ہے۔ یعنی تمام افراد معاشرہ کو سامان نشوو نما بہم پہنچانا ۔ اس مقصد کے پیشِ نظر اس کی تمام آمدنی ’’ زکوٰۃ یعنی ذریعہ ‘‘ نشوونما کہلا سکتی ہے‘‘ یعنی ایتائے زکوٰۃ ہر صاحبِ نصاب کی ذمّہ داری نہیں ہے، بلکہ یہ حکومت کی ذمّہ داری ہے۔ گویا نماز کے بعد زکوٰۃ کی ادائیگی سے بھی فراغت ۔ مزید ملاحظہ فرمایئے: ’’ ہمارے ہاں ’’ایتائے زکوٰۃ ‘‘ کا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے کہ وہ زکوٰۃ دیں گے (یعنی لوگ زکوٰۃ دیںگے ) اور زکوٰۃ سے مراد لیا جاتا ہے کہ جمع شدہ مال و دولت سے سال کے بعد اڑھائی فیصد روپیہ نکال کر غریبوں کو دے دینا ۔۔۔‘‘ ایتائے زکوٰۃ کا یہ مفہوم قرآنی نہیں ‘‘ اس طرح غلام احمد پرویز نے احادیث اور مسلّماتِ اسلامیہ کو نظر انداز کر کے لغت کے نام پر

  • فونٹ سائز:

    ب ب