کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 48

سنّت اور حدیث ، اہلِ سنت کی مسلّمہ اصطلاح ہے: اس طرح سنت یا حدیث بھی شرعی اصطلاح ہے ۔علاوہ ازیں یہ صحابہ اور تابعین (سلف) اور محدثین کے نزدیک ایک ہی چیز ہے۔ اس کا مفہوم و مصداق بھی چودہ سوسال سے مسلّم چلا آ رہا ہے۔اس کو جو اس کے مسلّمہ مفہوم ومصداق کے مطابق مانے گا ، وہ اس کو ماننے والا تسلیم کیا جائے گا اور جو یہ کہے گا کہ میرے نزدیک سنّت کا یہ مفہوم ہے اور حدیث کا یہ مفہوم ہے اور وہ مفہوم اس کا خود ساختہ اورمسلّمہ مفہوم کے یکسر خلاف ہے تو وہ حدیث و سنت کا ماننے والا نہیں کہلا سکتا ، چاہے وہ زبان سے حدیث و سنت کو ماننے کا ہزار مرتبہ بھی دعویٰ کرے۔ جیسے مرزائی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ختمِ نبوّت کے قائل ہیں ، لیکن وہ منکر ہی کہلائیں گے کیونکہ وہ ختمِ نبوّت کا وہ مفہوم نہیں مانتے جو مسلّمہ ہے ، بلکہ خود ساختہ مفہوم کی روشنی میں مانتے ہیں ۔ اس وضاحت کی روشنی میں جہاں پرویزی حدیث کے منکر ہیں ، وہاں اسی کے منہج پر چلنے والے فراہی، اصلاحی اور غامدی اور دیگر ان کے ہم نوا بھی منکرِ حدیث ہی قرار پاتے ہیں ۔ ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

  • فونٹ سائز:

    ب ب