کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 50

اما بعد : آج کے اس آخری دور میں قرآن مجید سے علاج کرنے کی صورت عام ہوچکی ہے ۔ یہصورت بلاشک وشبہ ایک بہت اچھی چیز ہے ، لیکن جو چیز پریشان کن اور قابلِ افسوس ہے وہ یہ کہ اس کام کو سرانجام دینے والے چند جاہل قاری حضرات ہیں جو علم شرعی سے بالکل کورے ہوتے ہیں ، ان کا یہ منافع بخش کاروبار بن گیاہےاور لوگوں کا مال باطل وناجائز طریقوں سے بٹورنے میں لگے ہوئےہیں ۔ جبکہ دوسری جانب بہت سے لوگ محض میڈیکل علاج پر تکیہ کرکے شرعی دواؤں اور دعاؤں کو بالکل فراموش کر چکے ہیں ۔ یہی وہ بنیادی وجہ تھی جس بنا پر اس موضوع پر ایک عاجزانہ تحریر لکھنے کیلئے میں نے قلم اٹھایا ، جب میں نے محسوس کیا کہ لوگوں کے عقائد ( بالخصوص ان قراء حضرات کے)  درست کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔( ان میں اہل توحید بھی ہیں ) کہ ان کا بدعات طلاسم اور صوفی خرافات سے ناطہ وتعلق توڑا جائے ، اس کے ساتھ ان ڈاکٹرز حضرات کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے جنہوں نے بیماری میں ایمان کے کرادار کو بالکل فراموش کردیاہے اور صحیح شرعی دم سے لاپرواہی اور پہلو تہی اختیار کرتے ہیں ۔ اس لئے ضروری تھا کہ چند ضروری قواعد وضوابط متعین کردئے جائیں ، اور قرآنی علاج کےلئے چند کلینک کھولے جائیں تاکہ کتاب وسنت کے دلائل کی روشنی میں صحیح شرعی مفاہیم کی وضاحت کے ساتھ اس شعبہ کوشعبہ بازوں اور دجالوںسے محفوظ کیا جاسکے ۔ یہ کلینک دیگر طبی ونفسیاتی ہسپتالوں   کےساتھ اور سرکاری( سعودی حکومت کی) سرپرستی میں ہونے چاہئیں ، اس کے ساتھ مناسب قراء اور صلاح وتقویٰ اور علم شرعی سےمالا مال لوگوںکو منتخب کرکے وہاں بٹھایاجائے اس کے ساتھ مسلسل ان کی نگرانی بھی کی جاتی رہنی چاہئے ، اسی ذریعہ سے اصل دوا یعنی شرعی دم اور سببِ دوا یعنی مادی وطبی اشیاء میں جمع ممکن ہے ۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا علاج میں یہی منہج ہو اکرتاتھا جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ تم دو شفاؤں کو لازم پکڑو قرآن اور شہد ‘‘۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرمان میں طبِ بشری اور طب الٰہی دونوں کو یکجا کردیاہے ‘‘۔ چونکہ لوگوں کی غالب واکثر بیماریوں کی وجہ نظر بد ہوتی ہے اور اس حدیث ( العین حق ) (نظر بر حق ہے )کا معنی یہ ہے اللہ کا ذکر کئے بغیر کسی کی توصیف وتعریف کرنا ( زبان کا زہر ہے ) نہ کہ اس سے مراد آنکھ بطور آلہ مراد ہے ۔ اس کی نسبت آنکھ کی جانب ا س لئے کی گئی ہےکہ کیونکہ حقیقت حال کا وصف وہی بیان کر رہی ہوتی ہے ، اس وقت موقع پر موجود شیاطین اسے لے کر موصوف کو تکلیف دینے کی ٹھان لیتے ہیں ( اللہ کے حکم سے ) کیونکہ نظر بد کا یہ مفہوم شرعی میرے علم کے مطابق شاید اس سے پہلے بیان نہیں ہوا ، لہٰذا میں نے اس کتابچہ میں بے پناہ کوشش کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بعد عقیدہ کے متخصص علماء کرام کی رہنمائی سے(دم) کی شرعی اصول بندی کردی جائے جوکہ زیادہ ضروری تھا ۔  میں اللہ سے درخواست کرتا ہوں جو عظمت والا ہے اور بڑی عظمت والے عرش کا مالک ہے کہ وہ اس کتابچہ کو پڑھنے والے اسے لوگوں تک پہنچانے والےاور اس کے لکھنے والے کیلئے دعا کرنے والے کو اس سے فائدہ پہنچائے ۔ {إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ} [هود: 88]

  • فونٹ سائز:

    ب ب