کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 64

اور باطنی امراض کے لئے یہ آیت پڑھیں {إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا } [الزلزلة: 1] ترجمہ : جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی۔ اور اسی طرح کرتے چلے جائیں ۔ خلاصہ باب : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرمانا :’’ جب ان کے پاس ایک عورت ان کا علاج کر رہی تھی تو آپ نے فرمایا ’’ اس کا علاج کتاب اللہ سے کرو ‘‘۔  اہم تنبیہ : گذشتہ سطور سے یہ نہ سمجھا جائے کہ انسان دوائی اسباب یعنی بیماری کی تشخیص اور ان کے عمومی علاج کیلئے ہسپتال وغیرہ جانے کو بالکل نظر انداز کردے ۔ لیکن ہر بیماری کے علاج میں بنیاد قرآن کریم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ دعاؤں کو بنایاجائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ دوا بھی استعمال کریں کیونکہ شریعت نے اس کا بھی حکم دیاہے ، لیکن اس کے ساتھ یہ یقین کامل ہو کہ شفا ءصرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ، اگر اللہ تعالیٰ نے شفا نازل فرمادی تو اس کے حکم سے دوا اثر کرے گی اور فائدہ دے گی نہ کہ اس کے برعکس ۔ کیونکہ باری جل وعلا کا فرمان مبارک ہے {وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ} [الشعراء: 80] ترجمہ :’’ اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے‘‘۔ الغرض دوا شفا ءکے اسباب میں سے ایک سبب ہے ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض احادیث میں اس کی طرف اشارہ بھی دیاہے ۔ جیسا کہ آپ نے ایک روایت میں فرمایا:’’ ہر بیماری کی دوا ہے، لہٰذا جب وہ بیماری کے موافق ہو جاتی ہے تو بیمار اللہ کے حکم یعنی اس کی مشیت و ارادہ سےصحت یاب ہوجاتا ہے‘‘۔ ایک روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی میں بھلائی ہو تو پچھنے لگوانے یا شہد پینے میں ہے‘‘ ۔ 

  • فونٹ سائز:

    ب ب