کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 71

اب ہم سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث کی طرف آتے ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’نظر بد حق ہے ، اس کے ساتھ شیطان اور ابن آدم کا حسد شامل ہوجاتے ہیں‘‘ علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :’’ یہ حدیث بعض لوگوں کی سمجھ میں نہ آسکی وہ کہنے لگے کہ ’’نظر بد اتنی دور سے کیسے کام کرتی ہے کہ متاثرہ شخص کو اتنی دور سے نقصان پہنچا سکے ، اور بہت سے لوگ محض ان کی طرف دیکھنے سے بیمار پڑ جاتے ہیں ،اور ان کی قوت وطاقت جواب دے جاتی ہے ، تویہ سب ان روحوںکی اس تاثیر سے ہوتاہے جو اللہ تعالیٰ نے ان میں پیدا کی ہوتی ہے ، اور اس کے نظر سے گہرے تعلق ہونے کی وجہ سے اس کی نسبت نظر کی طرف کردی گئی ہے ، لہذا نظر کی کوئی تاثیر نہیں بلکہ اصل تاثیر روح کی ہے ، اور جو نظر لگانے والے کی آنکھ سے نکلتاہے وہ معنوی تیر ہے ، اگر وہ اس بدن میں پیوست ہوجائے جس میں کوئی حفاظتی چیز نہیںہوتی تو وہ اس پر اثر انداز ہوجائے گا ، بصورت دیگر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا ۔ بلکہ وہ نظر لگانے والے کی طرف پلٹ جائے گا جیسا کہ حسی تیر ہوتاہے یہ دونوں برابر ہیں ‘‘۔ 

  • فونٹ سائز:

    ب ب