کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 78

دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں رطوبت کا پایا جانا اور ان میں سونے کی کیفیت کا پید اہونا۔ دل کی دھڑکن کا کم ہونا، دل بیٹھنا ، غیر طبیعی خوف، شدید ترین غصہ اور اشتعال ، غم اور دل میں گھٹن کا احساس ، کمر کے نچلے حصے میں اور دونوں کندھوں کے درمیان درد محسوس کرنا ، رات کو پسینے میں شرابور ہونا۔یہ علامات نظر بد کی قوت اور نظر لگانے والوں کی قلت وکثر ت کے اعتبار سے تمام کی تمام بھی پائی جاسکتی ہیں یا ان میں سے چند علامات پائی جاتی ہیں ۔ اور ایسے بھی ہوسکتاہے کہ یہ علامات اس شخص میں بھی پائی جائیں جو نظر بد کا شکار نہ ہو جس کی وجہ کوئی جسمانی یا نفسیاتی مرض ہوتاہے ۔ جس پر دم کیا جائے اس کیلئے دم سے قبل چند ضروری ہدایات : 1 : یقین کامل اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسنِ ظن رکھنا : اور یہ کامل یقین رکھے کہ قرآن میں شفا ہے ، اسے چاہئے کہ قرآن کریم کا علاج بطور تجربہ نہیں بلکہ یقین کامل سے کرے ۔ 2: تصوراتی قراءت کا اہتمام کرنا : وہ یہ کہ پڑھنے والا اور جس پر پڑھا جا رہاہے یہ تصور رکھیں کہ یہ آیات اس مریض کو شفا دیں گی اور اس ایذا دینے والے جن وغیرہ کی اللہ کے حکم سے ہدایت کا باعث بنیں گی ۔ 3 : شک کا طریقہ استعمال کرنا : وہ یہ کہ کسی پر شک ظاہر کرنے کے طریقہ کا استعمال کرنا جیسا کہ عامر بن ربیعہ کی گزشتہ حدیث میں گذرا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا ’’ تم کسے مورد الزام ٹھہراتے ہو ‘‘ یہ صحیح حدیث ہے جس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ نظربد کو ثابت کرنے کیلئے اس شخص پر شک کا اظہار کیا جائے جس پر گمان غالب ہو کہ اس سے نظر لگی ہے یا لگ سکتی ہے ، اور یہ چیز ظلم یا فساد نہیں کہلائے گی کیونکہ یہاں متاثرہ شخص جس پر دم کیا جا رہاہے اسے یہ احساس دلانا لازمی ہے کہ وہ اس متہم شخص سے حسن ظن رکھے اور یہ کہ اس نے جو اس کی تعریف کی ہے وہ حسد میں نہیں بلکہ مذاق اورہنسی میں کی ہے۔ ہاں البتہ اس نے تعریف کرتے وقت اللہ کا ذکر نہیں کیا اس لئے اس تعریف میں شیطان شامل ہوگیااور اس کو لیکر مریض کو نقصان پہنچانے لگا جبکہ تعریف کرنے والے کو اس کا پتہ تک بھی نہ تھا کہ ایسا ہوگیاہے ۔ کیونکہ یہ مس شیطانی جو اس تعریف کی وجہ سےجاری ہوا ہے یہ وصف جزوی اور بیرونی ہے جو انسان کو باہر سے تکلیف پہنچاتاہے اور اس کے ساتھ اس کا کچھ اثرجزوی طور پر جسم کے اندرونی حصہ پر بھی اثر انداز ہوتاہے جس کے ساتھ جسم کی کیمیائی حالت میں تبدیلی آجاتی ہے ، اسصورت میں ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوجاتے ہیں ، اور آنکھوں اور کمر میں حرارت پیدا ہوجاتی ہے ، ہونٹ خشک ہوجاتے ہیں اور زائداشتعال اور عجیب وغریب افکار کا ظہور ہوتاہے ، تو یہ جزوی مس ایسا نہیں کہ ایسے دخول کلی قرار دیا جائے کہ اس سے مخطابت ممکن ہوتو یہ بات محض شک تک محدود رہے گی جس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی کی ہے ۔ کہ اس شخص ان افراد سے متعلق پوچھا جائے جن کی اسے نظر لگنے کا خدشہ ممکن تھا ۔ تو وہ تمام لوگ اس شک کی فہرست میں آجائیں گے جن کا اس نے نام لیا ۔ ( اس بنا پر ان سے ان کا لعاب، پسینہ یا دیگر چیز لیکر مریض کا علاج ممکن ہوجائے گا )۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب