کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 81

ابتدا میں یہ خیال رکھا جائے کہ بہتر یہ ہے کہ ابتدا میں مریض پر زیادہ دم نہ پڑھا جائے بلکہ بعض دعاؤں اوراذکار پر ہی اکتفا کیا جائے ۔ کیونکہ ( دم ) دعا کے مثل ہے ، جس میں افراط وتفریط نہیں ، اور اس لئے بھی کہ دم کرنے والا اور جس پر کیا جارہاہے اکتا نہ جائیں ، اس شخص کو جسے کسی زہریلی چیز نے کاٹ لیا تھا اور ایک صحابی نے اس پر صرف سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تھا یہ اس امر کی واضح دلیل ہے ۔ چوتھی فصل حسد اور جادو حسد کی اقسام : مندوب اور جائز حسد : اسے غبطہ( یعنی رشک ) کہا جاتاہے ۔ا ور اس کا معنیٰ یہ ہے کہ کوئی انسان کسی دوسری مسلمان بھائی کی خود پر برتری کو دیکھ کر یہ چاہے کہ میں بھی اس جیسا ہوجاؤں یا اس سے بہتر ہوجاؤں لیکن اس کے ساتھ وہ اپنے اس بھائی سے اس نعمت کے زوال کی تمنا نہ کرے ، اسے نیکمیں مقابلہ کہا جاتاہے ۔ جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہا کہ ’’ میں کبھی کسی چیز میں آپ کا مقابلہ نہیں کروں گا ‘‘ یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے گھر کا سارا سامان لیکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے ۔ شیخ الاسلام فرماتے ہیں :’’ جو عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا وہ جائز مقابلہ اور رشک تھا تو یہ چیز محمود اور قابل ستائش ہے ، لیکن صدیق رضی اللہ عنہ کی حالت ان سے افضل اور بہتر تھی ، وہ اس طرح کہ ان کی طبیعتمقابلہسے مطلقا خالی تھی وہ دوسرے کے حال کی جانب بالکل نہیں دیکھتے تھے ‘‘ یہی حال اس صحابی کا تھا جس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ’’ ابھی تم پر ایک جنتی شخص داخل ہوگا‘‘ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی ۔ تو جب ان صحابی سے سیدنا عبد اللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہنے اس کی وجہ دریافت کی تو وہ فرمانے لگے :’’ میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے متعلق کوئی کینہ نہیں رکھتا اور کسی مسلمان کو ملنے والی نعمتوں اور خیر پر اس سے حسد نہیں کرتا‘‘ تو عبد اللہ فرمانے لگے ’’ یہی وہ چیز ہے جس نے آپ کو اس درجے تک پہنچایا اور جس کی ہم میں طاقت نہیں ہے‘‘۔ 

  • فونٹ سائز:

    ب ب