کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 84

فائدہ : بعض عامۃ الناس کا خیال ہے کہ اگر نظر بد لگانے والے کو پتہ چل جائے کہ اس سے اثر لیا گیاہے تو ، یہ اثر فائدہ نہیں دے گا ، جبکہ یہ سوچ سراسر غلط ہے اور عامر بن ربیعہ اور سہل کے حوالے سے مروی روایت کے برخلاف ہے کیونکہ اس روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر کو کہا کہ : ’’اپنے بھائی کیلئے غسل کرو تو وہ تو جانتاتھا ، اس کے باوجود نظر بد کا اثر ختم ہوگیا ‘‘۔ فائدہ : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جادو اور حسد کو یکجا کرکے بیان کیا ہے ، یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ان دونوں میں باہمی ربط موجودہے ۔جادوگر بالوں یا ناخنون کی گرہ پر پھونکتاہے جس کے ذریعے وہ ایک شیطان خاص کردیتاہے تاکہ وہ مسحور شخص کو ایذا پہنچاتارہے ۔ اور حاسد ( نظر بد والا شخص ) بھی شیطان کو ایک وصف جو اسے پسند آیا ہوتاہے جس پر وہ اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا سے خاص کردیتاہے جو شیطان نظر بد سے متاثرہ شخص کو نقصان پہنچاتارہتاہے ۔ یہ دونوں نقصان پہنچاتے ہیں لہذا اثر میں مشترک ہیں اور وسیلہ میں مختلف ۔ فائدہ : فرمان باری تعالیٰ ہے :  {وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ} [الفلق: 4] ترجمہ : ’’ اور گرہ (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی)‘‘۔ فائدہ: زہریلی نظر جس کا ذکر اہل علم نے کیا ہے اوراسے سانپوں میںدم بریدہ اور سفید دھاری دارکو قیاس کیا ہے ، کیونکہ اسے ذاتی طور پر زہریلی طاقت ودیعت کی گئی ہوتی ہے۔ جیساکہ مرغے کی آنکھ کو ملائکہ کے دیکھنے کی قوت عطا کی گئی ہے ، اور کتے اور گدھے کیآنکھ کو شیاطین کے دیکھنے کی صلاحیت عطا کی گئی ہے ، جبکہ انسان کاجہاں تک تعلق ہے تو اسے جوایذا دینے والی زہریلی طاقت دی گئی ہے وہ ذاتی نہیں ہے ،بلکہ وہ وصف ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا جاتاجیساکہ گذشتہ حدیث میں بیان ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ نظر بد حق ہے اس میں شیطان شامل ہوتاہے ‘‘ یہ اثرنظر کے دیکھنے کی وجہ سے نہیں ہے 

  • فونٹ سائز:

    ب ب