کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 87

رہنا ، جیساکہ نماز کے بعد کے اذکار کا اہتمام کرنا ، یومیہ بنیاد پر قرآن مجید کی تلاوت کا اور صبح وشام کے اذکار کا اہتمام کرنا ۔ نیز اس کے ساتھ سوتے وقت اور جاگتے وقت کی دعاؤں کا اہتمام کرنا ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے : {وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَإِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمٰى} [طه: 124] ترجمہ :’’ اور (ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی، اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کرکے اٹھائیں گے‘‘۔ مصیبت اور بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد کے وہ اعمال جو اللہ کے حکم سےاس بیمارے کے خاتمے کا باعث بنتے ہیں  1: دوران دم یقین ِ کامل اور اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن رکھنا : انسان یہ نہ کہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے کلام کا تجربہ کرکے دیکھتاہوں ۔ بلکہ یقین رکھے کہ اسی میں شفا ء ہے ۔ اور علاج کی اصل اور بنیادی دوا یہی ہے ۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے : { وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظَّالِمِيْنَ إِلَّا خَسَارًا} ترجمہ :’’قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں مومنوں کے لئے تو سراسر شفا اور رحمت ہے۔ ہاں ظالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی نہیں ہوتی‘‘۔ [الإسراء: 82] 2: خالق ومالک کی تعظیم وتکریم بجالانا اور اسی سے التجا کرنا: اسی سے تعلق جوڑنا توبہ کرنا اور ہر وقت اسے پکارتے رہنا ، کیونکہ وہ اکیلا ویکتا ہی شفاء دے سکتاہے ۔ اور اگر آپ کو تکلیف پہنچتی ہے تو آپ کا خود اپنے اوپر دم کرنا اس سے بہتر ہے کہ کوئی اور آپ پر دم کرے ۔ 3 : لوگوں سے احسان کا معاملہ کرنا ، اور صدقہ وخیرات کرتے رہنا :نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے : ’’جس آدمی نے کسی مومن سے دنیا میں مصیبتوں کو دور کیا اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی مصیبتوں کو دور کرے گا اور جس نے تنگ دست پر آسانی کی اللہ اس پر دنیا میں اور آخرت میں آسانی کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس بندے کی مدد میں ہوتاہے اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرےگا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندہ کی مدد میں لگا رہتاہے کہ جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے‘‘ اور ابی امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اپنے بیماروں کا علاج صدقہ سے کیا کرو ‘‘ ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب