کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 92

وتربیت سے واقف نہیں ہیں یا پھر وی تعصب میں گرفتار ہیں اوردین دشمنی میں منفی باتیں کرتے ہیں۔ملک کی آزادی اور اس کی تعمیر وترقی میں فضلائے مدارس وجامعات کابڑا اہم کردار رہا ہے۔ ملک کے نونہالوں کی تعلیم وتربیت میں جن حضرات نے اپنی جوانی کے بیش قیمت ماہ وسال لگادیے،یہ کس قدر بدقسمتی کی بات ہے کہ ایسے حضرات کی ضعیفی اوربڑھاپے کےلیے نہ ملک کوئی انتظام کرتاہے اور نہ ہی ہماری ملت ان کے بارے میں فکرمند ہے ۔ریٹائرڈ منٹ کی عمر کے بعد بھی ان میں بعض حضرات کی خدمات کاسلسلہ جاری رہتاہے اور اس وقت تک جاری رہتاہے جب تک ان کے جسم میں جان باقی رہتی ہےلیکن یہی اساتذہ کرام اگر تدریس کے دوران یاضعیفی میں کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہوجائیں جس پر دو چار لاکھ روپے خرچ ہورہے ہوں توکوئی ان کاپرسان حال نہیں ہوتا۔مدارس وجامعات میں اساتذہ کرام کو جومشاہرہ دیاجاتاہے وہ بہت کم ہوتاہے،اس میں بہ مشکل وہ اپنی فیملی چلا پاتے ہیں۔اس قلیل آمدنی میں بچت کرنےکا سوال ہی نہیں پیداہوتا۔اپنے بچوں کی شادی یا اپنے ذاتی گھر کی تعمیر ان کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دینے والے اساتذہ اپنے مستقبل کولے کر بہت زیادہ فکرمند نہیں ہوتے بلکہ انہیں اطمینان ہوتاہے کہ سرکاری سطح پر ان کے لیے ایک قابل لحاظ رقم مختص ہوچکی ہےجو ذمہ داری سے سبک دوش ہونے کے بعد انہیں مل جائے گی یا پنشن کے نام سے تاحیات ایک معقول رقم انہیں ملتی رہے گی جس سے ان کا بڑھاپا سکون کے ساتھ گزر جائے گا۔اس کے برعکس دینی مدارس وجامعات میں جو محترم اساتذہ کرام تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں وہ اپنے مسقبل کولے کر بہت فکر مند ہوتے ہیں۔ملک اور ملت کے بچوں کی تعلیم وتربیت کا فریضہ انجام دینے والوں میں یہ فرق وامتیاز حد درجہ تکلیف دہ ہے،اس سلسلے میں ملک کوبھی سوچنا چاہیے اورملت کو بھی۔دینی مدارس کے تعلق سے جومنفی سوچ اس ملک میں بنی ہوئی ہے اور جواب کسی حد تک مستحکم ہوتی جارہی ہے ،اس کے ہوتے ہوئے مدارس کے اساتذہ کوسرکاری طور پر کوئی سہولت یا مدد حاصل ہوگی،اس کاتصور بھی محال ہے۔کیاملت اس سلسلے میں کچھ کرسکتی ہے یاوہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں

  • فونٹ سائز:

    ب ب