کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 93

نہیں ،اس پر ہمیں ضرور سوچنا چاہیے۔ بار بار یہ خیال دل ودماغ کو پریشان کرتاہے کہ ہم سیکولر اور لادینی نظام کے مقابلے میں کسی دینی نظام کوکیسے کامیاب بناسکتے ہیں اور کیسے کسی شخص سے کہہ سکتے ہیں کہ اہل اسلام جونظام چلاتے ہیں ،اس میں انسان کے بنیادی حقوق محفوظ ہیں۔ جس استاذ نے مشقت کی زندگی گزاری ہے اور جس کے بچوں نے اپنے باپ کو چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے لیےدوسروں سے قرض مانگتے دیکھا ہے اور گھر میں عسرت اورتنگی کی زندگی دیکھی ہے کیا ان بچوں کے دل میں اس نظام کے تئیں کوئی ہمدردی پیداہوسکتی ہے بلکہ وہ اس نظام سے بےزار ہوجائیں گے اور باپ کو دنیاکا سب سے زیادہ ناکام انسان سمجھیں گے۔ایک طرف دینی مدارس وجامعات کے اساتذہ کی تصویریہ ہے لیکن دوسری طرف ان کی انتظامیہ یا صدر اور ناظم( باستثنائے بعض) کی تصویر دوسری ہے۔ان کے پاس زندگی کی ساری آسائشیں ہیں۔گھروں میں ان کی خواتین بیش قیمت لباس زیب تن کرتی ہیں ،زیورات سے لدی رہتی ہیں،پورا گھر خوشبو سے مہکتا رہتاہے اور کھانے پینے کی اشیاکی فروانی ہر وقت ان کے دسترخوان پر ہوتی ہے۔اس قبیلے کی اکثریت اپنے بچوں کو ان کے اپنے مدارس وجامعات میں تعلیم نہیں دلاتی بلکہ ان کے بچےعصری تعلیمی اداروں میں بھاری فیس ادا کر کے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔حیرت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب یہ دیکھا جاتاہے کہ انتظامیہ کی خاصی بڑی تعدا دکے پاس کوئی خاص ذریعہ آمدنی نہیں ہے لیکن ان کے اخراجات کم ہونے کا نام نہیں لیتے ۔بلکہ ہر دوتین سال بعد گراں قیمت نئی گاڑیاں دروازے پر جھومتے ہاتھی کی طرح نظر آتی ہیں۔ ممکن ہے بعض حضرات پوری دردمندی کے ساتھ یہ بات کہیں کہ سرکاری اور پرائیویٹ نظام میں یہ فرق تو رہےگا ہی۔مدارس کے پاس اتنی رقم کہاں ہے کہ وہ اپنے بیمار اساتذہ کا علاج کراسکیں یا خدمات سے سبک دوش کیے جانے کے بعد انہیں کوئی پنشن جاری کرسکیں ۔جن حالات میں اس ملک میں دینی مدارس اپنا کام کر رہے ہیں،اس میں یہی کیا کم ہے کہ وہ طلبہ کے قیام وطعام اور اساتذہ کے مشاہروں کاانتظام کرلیتے ہیں۔اس کےلیے مدارس کی انتظامیہ شب وروز محنت کرتی ہے

  • فونٹ سائز:

    ب ب