کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 95

اساتذہ کے درمیان کوئی فرق وامتیاز نہ کرے اور نہ عزیزواقارب کوبغیر کسی وجہ کے ترجیح دینے کی مذموم کوشش کی جائے۔اسلام عدل وقسط ،مساوات اورانصاف کا علم بردار مذہب ہے،اگر اس کے اپنے گھر میں اس کایہ امتیاز نمایاں نہیں ہوتا تو پھر کوئی ضرورت نہیں ہے کہ زبان سے اسلام کا نام لیا جائے ،اللہ کا دین ایسے دوہرے کردار کے حاملین کامحتاج نہیںہے۔ایک چھوٹے سے دینی نظام میں اسلام کی بنیادی تعلیمات کی دھجیاں بکھیر کر جوتعفن ہم پھیلاتے ہیں ،اس سے ہمارا پورا سماج بیمار ہوجائے گا۔پیٹ بھرنے کے لیے کوئی دوسراپیشہ اختیار کیاجاسکتاہے،کسی پر پابندی نہیں ہے لیکن اسلام کے نام پر یہ اجازت کسی کو ہرگز نہیں دی جاسکتی کہ وہ امانت میں خیانت کرکے ایک بابرکت اور پاکیزہ نظام کو اپنی خواہشات کا آلہ کار بنالے۔ (2) ملت کے سرمایہ داراور اصحاب ثروت سے درخواست کی جائے کہ وہ اس اہم اور سنگین مسئلے کو سمجھیں۔ مدارس کو تعاون دیتے وقت الگ سے ایک خاص رقم اس اسکیم کو قائم کر نے کے لیے دیں اور انتظامیہ کو مجبور کریں کہ وہ اپنے ضعیف العمر اور بیمار اساتذہ کے لیے اس کا انتظام کرے۔صرف یہی نہیں بلکہ یہ دیکھیں کہ اس اسکیم پر عمل کیا جارہاہے یا نہیں۔رفاہی ادارے اور عطیہ دہندگان کی ہی سستی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے مدارس کے نظام میں بے اعتدالی کو راہ مل گئی ہے۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی اکثریت غریب گھرانوں سے تعلق رکھتی ہے ۔محرومیوں کا شکار یہ بچے جب میدان عمل میں اترتے ہیں تو خود اعتمادی اور کسی حد تک جرأت اور ہمت سے تہی دست ہوتے ہیں ۔مجبوری میں بہت کچھ سہتے اور برداشت کرتے ہیں۔لیکن کیا ایسا استاذ اپنے طلبہ میں وہ کردار پیدا کرسکے گا جو سماج کی دینی قیادت کے لیے مطلوب ہے۔اگر ملت کے اصحاب ثروت بیدار ہوجائیں تواس عذاب سے اساتذہ کو باہر نکالا جاسکتاہے۔رفاہی ادارے ملت کا عظیم سرمایہ ہیں اگر ملت نے ان پر اعتماد کیاہے تو ان کے ذمہ داروں کو چاہیے کہ اس اعتماد کو مجروح نہ ہونے دیں۔بعض رفاہی ادارے جدید تقاضوں کے پیش نظر کمپیوٹر ،سلائی مشین اور دست کاری کے دوسرے آلات خوش دلی سے فراہم کرتے ہیں لیکن پھر پلٹ کر نہیں دیکھتے کہ ان کا کیا ہورہاہے۔کسی

  • فونٹ سائز:

    ب ب