کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 97

سلیقہ سکھایا ،اگر آج وہ بیمار ہے،اگر اس کی ضعیفی نے اسے بستر پر ڈال دیاہے ،اس کے اعضائے جسم اس قابل نہیں رہ گئے کہ اپنی ضروریات پوری کرسکے تو کیا اس کے شاگردوں کی ذمہ داری نہیں ہے کہ اس کی اس مشکل میں خبر گیری کریں۔یہ کیسی قساوت قلبی ہے کہ اللہ کا دیاہوا ہمارے پاس سب کچھ ہے اور ہم ایک بیمار استاذ کا علاج نہیں کراسکتے،اس کی ضعیفی کا انتظام نہیں کرسکتے۔اسلام کی عمومی تعلیم تو تمام کمزور طبقات کے لیے یہ ہے کہ ان کی مدد کی جائے تو بھلا ہمار ااستاذ جو آج مشکلات سے دوچارہے اس کا حق دار کیوں نہیں ہے؟۔استاذ کی خودداری اور عزت نفس اسے اجازت نہیں دیتی کہ کسی شاگرد کے سامنے دست سوال دراز کرے اور نہ وہ خود کو اس قابل پاتاہے کہ اس کے سامنے اپنادکھڑا لے کر بیٹھ جائے لیکن کیا ایک شاگرد کو اتنی سمجھ نہیں ہے کہ استاذ کن حالات سے دوچار ہے،ان کا چہرہ کیا کہہ رہاہے،ان کی آواز اور اعضاء کی کپکپاہٹ کیا کہانی سنارہی ہے ۔شاگروں کی طرف سے اپنے محترم اساتذہ کی خبر گیری اور ان کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کا سلسلہ رہنا چاہیے۔مجھے ذاتی طور پر ایسے بعض خوش نصیب اور سعادت مند ساتھیوں کا علم ہے جو ہمیشہ اپنے اساتذہ کا خیال رکھتے ہیں اور ان سے جو بھی ممکن ہوسکتاہے وہ اپنی استطاعت کے مطابق کرتے ہیں۔ لیکن یہاں کیا یہ ممکن ہے کہ تلامذہ اپنے اساتذہ کےلیے کچھ ایسا انتظام کرسکیں کہ انہیں پنشن بھی ملے اور ناگہانی مصیبتوں میں ان کی مدد بھی ہوسکے۔اوپر جس اسکیم کا ذکر ہےاس میں شاگردوں کی بھی شمولیت ہوسکتی ہے۔مدارس کی طرف سے قائم کیے جانے والے فنڈ میں ہر شاگرد اپنے اساتذہ کے لیے بھی کچھ نہ کچھ ماہانہ یا سالانہ تعاون کرے۔دانہ دانہ مل کر ذخیرہ اور قطرہ قطرہ مل کر سمندر ہوتاہے۔ہر شاگرد اپنے استاذ کےلیے اگر ماہانہ صرف دس روپے مدرسے کے پنشن اسکیم میں ڈال دے تو ایک بڑی رقم ہمارے پاس جمع ہوجائے گی اور ہم دنیا پر یہ ثابت کرسکیں گے کہ آج بھی ہمارا دینی نظام انسانیت کے دکھوں کا مداوا کرسکتاہے۔ (4)اسلام نے سودی نظام کے مقابلے میں اپنا ایک ایسا معاشی نظام ترتیب دیا تھا،جس میں ضرورت مندوں کو آسانی سے قرض حسنہ مل جاتاتھا اور مضاربت کا طریقہ رائج کیا تھا جس میں دولت گردش

  • فونٹ سائز:

    ب ب