کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 65

خلاصہ بحث سابقہ بحث کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام،صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین اوردیگربلندپایہ بزرگ ہستیوں کی حیات ِ طیبہ کے حالات وواقعات کی تصویری فلم بنانا اورپھرمیڈیاکے ذریعے ٹی وی اورانٹرنیٹ وغیرہ پرپیش کرنا اسلام اور مسلمانوں کابدترین مذاق اڑانے کے مترادف ہے، ایسی فلمیں بنانا، دیکھنااوردکھانا ناجائزاورحرام ہے،بلکہ ایمان کاسلامت رہنابھی دشوارہے۔لہٰذا کسی مسلمان کیلئے لائق نہیں کہ وہ فرضی طور پر کسی نبی یا صحابی کی ایکٹنگ کرے ،ایسا کرنے والا اسلام اور مسلمانوں کا مجرم ہے ۔ نیز ان فلموں یا ڈراموں میں کسی شکل میں بھی حصہ ڈالنا اسپانسر کرنا ، دیکھنا ، اپنے پاس رکھنا ، سوشل میڈیا کے ذریعے اس کے کلپس شیئرکرنا ، ان کی سی ڈیز فروخت کرنا الغرض کسی بھی نوعیت کا اس میں تعاون اور شراکت جائز نہیں بصورت دیگر ہم اللہ تعالیٰ کے ہاں مجرم ٹھہریں گے اور ہم سے اس بارے میں باز پرس ہوگی ۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت نصیب فرمائے اور حق پر قائم ودائم رکھے ۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب اللعالمین

  • فونٹ سائز:

    ب ب