کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 12
ترجمہ: ’’جو لوگ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہیں جو نبی اُمیّ ہے، جس کا ذکر وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔ وہ (رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) انہیں نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں‘‘۔  اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس کا حکم دیا ہے ۔ فرمان الٰہی ہے: [وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ۭ وَاُولٰۗیِٕکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ][آل عمران: 104] ترجمہ: ’’اور تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہونے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلاتے رہیں ۔ وہ اچھے کاموں کا حکم دیں اور برے کاموں سے روکتے رہیں اور ایسے ہی لوگ مراد پانے والے ہیں‘‘۔  امت مسلمہ کی بھلائی اسی میں ہے ۔ قرآن مجید میں ہے: [کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ ۭ وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ ۭمِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَکْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ][آل عمران: 110] ترجمہ: (مسلمانو! ) تم ہی بہترین امت ہو جنہیں لوگوں (کی اصلاح و ہدایت) کے لیے لاکھڑا کیا گیا ہے،تم لوگوں کو بھلے کاموں کا حکم دیتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔ اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا۔ ان میں سے کچھ لوگ تو ایمان لے آئے ہیں مگر ان کی اکثریت نافرمان ہی ہے۔ وضاحت: ہمیں اللہ تعالیٰ نے بہترین امت اس لحاظ سے بنایا ہے کہ ہم ایمان لانے کے ساتھ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔