کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 16
لیے کہ ہم تمہارے پروردگار کے ہاں معذرت کرسکیں اور اس لئے بھی کہ شاید وہ نافرمانی سے پرہیز کریں‘‘۔ وضاحت: یہ ان لوگوں کا واقعہ ہے جنہیں ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کیا گیا تھا۔ ان میں تین گروہ بن گئے تھے۔ ایک وہ گروہ جو ہفتے کے دن مچھلیوں کو گھیر کر اتوار کو مچھلیاں پکڑتا تھا ۔ دوسرا وہ گروہ جو انہیں مچھلیاں پکڑنے (اللہ کی نافرمانی کرنے) سے منع کرتا تھا ۔ اور تیسرا وہ گروہ جو نہ مچھلیاں پکڑتا اور نہ ہی انہیں منع کرتا بلکہ وہ لوگ منع کرنے والوں سے کہتے کہ تم انہیں نصیحت کیوں کرتے ہو، وہ جواب دیتے کہ اس کے دو فائدے ہیں۔1ـاللہ تعالیٰ کے سامنے ہم بری ہوجائیں گے کہ ہم نے تو منع کیا تھا۔ 2ـ ممکن ہے کہ یہ لوگ باز آجائیں ۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے اہم اصول پہلا اصول: تبلیغ کے لئے خیرخواہی کا جذبہ اورحکمت نہایت ضروری ہے: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ ۭ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِیْلِہٖ وَہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ][النحل:125] ترجمہ:’’ (اے نبی)! آپ (لوگوں کو) اپنے پروردگار کے راستہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ دعوت دیجئے اور ان سے ایسے طریقہ سے مباحثہ کیجئے جو بہترین ہو ۔ بلاشبہ آپ کا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک چکا ہے اور وہ راہ راست پر چلنے والوں کو بھی خوب جانتا ہے‘‘۔ نوٹ: خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ واقعی اس شخص کی بھلائی مقصود ہو اور حکمت سے یہ مراد ہے کہ مناسب موقعہ پر اچھے انداز سے بتایا جائے۔