کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 19
دوسری صفت: اگر کسی کے چہرے پر کوئی داغ یا نشان آجائے تو آئینہ اسے بتادیتا ہے لہذا ہمیں بھی آپس میں ایک دوسرے کی اصلاح کرتے رہنا چاہئے، اور جس طرح آئینہ دیکھنے والا آئینے کے خلاف کچھ نہیں کہتا بلکہ بعض اوقات وہ خوش ہوتا ہے کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے چہرے پر دھبہ لگ گیا ہے اور میں تو فلاں صاحب سے ملاقات کے لئے جارہا تھا، اچھا ہوا کہ میں نے آئینے میں دیکھ لیا اور وہ دھبہ صاف کرلیا، اسی طرح ہمیں بھی نصیحت کرنے والے کے خلاف نہیں ہونا چاہئے بلکہ خوشی ہونی چاہئے کہ مجھے کل قیامت میں کائنات کے رب کے سامنے حاضر ہونا ہےاس لئے بہت اچھا ہوگیا کہ میری اصلاح ہوگئی ہے۔ ـ آئینہ کسی کے نشان کا مذاق نہیں اڑاتا لہذا ہمیں بھی کسی کی غلطی کا مذاق نہیں اڑانا چاہئے بلکہ دردمندانہ انداز میں نصیحت کرنی چاہئے۔فرمان الٰہی ہے: [یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَاۗءٌ مِّنْ نِّسَاۗءٍ عَسٰٓی اَنْ یَّکُنَّ خَیْرًا مِّنْہُنَّ][الحجرات:11] ترجمہ: ’’اے ایمان والو! (تمہارا) کوئی گروہ دوسرے گروہ کا مذاق نہ اڑائے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ مذاق اڑانے والوں سے بہتر ہوں ۔ نہ ہی عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ‘‘۔ تیسری صفت: آئینہ کسی دوسرے کو آپ کے چہرے کے داغ کے بارے میں نہیں بتاتا لہذا کسی کی غلطی کو دوسروں کے سامنے بیان کرنا منع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَلَا تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ ۭ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ ۚ وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰۗیِٕکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ ] [الحجرات:11] ترجمہ: ’’اور ایک دوسرے پر طعنہ زنی نہ کرو ۔ اور نہ ہی ایک دوسرے کے برے نام رکھو ۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے اور جو لوگ ان باتوں سے باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں ‘‘۔