کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 20
نیزفرمایا:[وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا ۭاَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّاْکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِہْتُمُوْہُۭ][الحجرات:12] ترجمہ: ’’اور نہ ہی تم میں سے کوئی کسی دوسرے کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تم تو خود اس کام کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ سے ڈرتے رہو ۔ اللہ ہر وقت توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے‘‘۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے: جس نے اپنے بھائی کو اکیلے میں نصیحت کی تو اس نے اچھے انداز سے اس کی اصلاح کی اور جس نے سب کے سامنے اصلاح کی اس نے درحقیقت برے طریقے سے اپنے بھائی کو رسوا کیا۔ چوتھی صفت: آئینہ اس شخص کو بتاتا ہے جو آئینے میں دیکھتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی ہدایت اور بھلائی اسے عطا فرماتا ہے جو بھلائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔اللہ تعالی کا بھی یہی نظام ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو زبردستی ہدایت نہیں دیتا بلکہ اسے ہدایت سے نوازتا ہے جو خود ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ سورۃ الرعد میں ہے: [اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ ] [الرعد:11] ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اپنے اوصاف خود نہ بدل دے‘‘۔ مفہوم: مطلب یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ ہم انتظار ہی کرتے رہیں کہ کوئی آکر ہمیں بتائے گا تو ہم بھلائی کو اپنائیں گے ورنہ ہمیں کیا ضرورت ہے ہم تو ان پڑھ ہیں، یا پھر ہم تو دنیادار لوگ ہیں یہ بھلائیاں تو دین دار لوگوں کے لئے ہیں بلکہ جس بات کا علم ہوجائے اسے اپنانا اور دوسروں کو بتانا ضروری ہے۔ پانچویں صفت: جب تک وہ نشان مِٹ نہیں جاتا آئینہ اسے بتاتا رہتا ہے۔ اسی طرح ہمیں بھی بار بار نصیحت کی ضرورت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:[ وَذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ][الذاریات: 55] ترجمہ: ’’اور نصیحت کرتے رہیے۔ کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کو فائدہ دیتی ہے‘‘۔