کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 24
نصیحت کس کے لئے ہے؟ نصیحت ہر ایک کے لئے ہے جیساکہ مختلف احادیث سے یہ بات ثابت ہے: ایک صحابی جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’بَایَعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَی إِقَامَةِ الصَّلاةِ وَإِیْتَاءِ الزَّکَاةِ وَالنُّصْحِ لِکُلِّ مُسْلِمٍ۔[ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پربیعت کی کہ میں نماز قائم کروں گا، زکاۃ ادا کروں گا اور ہر مسلمان کو نصیحت کروں گا۔ ایک اور روایت میں ہے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْجِہَادِ کَلِمَةَ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ‘ ترجمہ: ’’ظالم حکمران کے سامنے عدل کی بات کرنا بھی ایک عظیم جہاد ہے‘‘۔  ان احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ موقع، محل، حکمت اور ضرورت کے حساب سے ہر شخص کو نصیحت کرنا ضروری ہے، خصوصاََ جو افراد جن لوگوں سے منسلک ہوتے ہیں یا زیادہ قریب ہوتے ہیں ان پر یہ ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ بعض اوقات یہ خیال بھی آتا ہے کہ اگر میں نے اصلاح کی کوشش کی تو لوگ میرے دشمن بن جائیں گے اس وجہ سے میں کسی کو کچھ نہیں کہتا حالانکہ اللہ تعالی نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد ضرور کرے گا جو اس کے دین کی مدد کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ ۭ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ ][الحج: 40] ترجمہ: ’’اور اللہ ایسے لوگوں کی ضرور مدد کرتا ہے جو اس (کے دین) کی مدد کرتے ہیں ۔ اللہ یقینا بڑا طاقتور اور سب پر غالب ہے‘‘۔