کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 25
بصورت دیگر نفس امارہ، شیاطین، شر پسند انسان، کفّار اور منافقین تو دین کے خلاف سرگرداں رہتے ہیں ۔ اور ان کی ہر ممکن یہ کوشش ہوتی ہے کہ کس طرح اس دین حق کی دعوت کو نہ صرف روکا جائے بلکہ جان بوجھ کر ایسے شبہات پیدا کئے جائیں اور اس طرح دین کو غلط طریقے سے پیش کیا جائے کہ لوگ نہ صرف دین سے دور ہوجائیں بلکہ دین سے نفرت کرنے لگیں نیز دنیادار طبقہ بھی خوش ہوجائے۔ ایک شبہ اور اس کا ازالہ اللہ تعالیٰ ک کا فرمان ہے: [یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ ۚلَا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اہْتَدَیْتُمْ ۭ اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ][المائدۃ: 105] ترجمہ:’’ اے ایمان والو! تمہیں اپنی فکر کرنا لازم ہے۔ جب تم خود راہ راست پر ہوگے تو کسی دوسرے کی گمراہی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ تم سب کی اللہ ہی کی طرف باز گشت ہے وہ تمہیں بتلا دے گا جو تم کیا کرتے تھے‘‘۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن میں ہے کہ انسان صرف اپنا خیال رکھے اور دوسروں کی فکر نہ کریں جبکہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنی اصلاح ضروری ہے۔ اس کے بعد تبلیغِ دین بھی بہت ضروری ہے۔ اگر تبلیغ کے باوجود کوئی ایمان نہ لائے تو آپ نے اپنا فرض ادا کردیا اور اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ہے لہٰذا وہ لوگ آپ کو نقصان نہیں پہنچاسکیں گے۔