کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 27
گھر کو حاصل کرنے کے لئے مفید نہ ہو، یعنی فضول ومباحات کو ترک کر دینا جو کہ اللہ کی اطاعت میں معاون نہیں ہوتیں‘‘۔ ابن ِ قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’زہد دل کا سفر کرنا دنیا کے مسکن سے آخرت کے اعلیٰ مقام کو حاصل کرنے کی طرف‘‘۔ زہد کی تین اقسام ہیں: (1) زہد فی الحرام اس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ ایمان کو ہر اس عمل سے اپنے آپ کو بچانا چاہئے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ یہ ہر مسلمان پر فرض عین ہے یعنی اس کے بغیر زہد کا حصول نا ممکن ہے۔ مثلاً قتل سے ۔ جیسا کہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے۔ {وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللَّہُ إِلَّا بِالْحَقِّ} [الا نعام:151 ] ترجمہ :’’ جس جان کو اللہ نے مارنا حرام کر دیا ہے اس کو قتل مت کرو ‘‘۔ { وَاعْبُدُوا اللَّہَ وَلَا تُشْرِکُوا بِہِ شَیْئًا} [النساء: 36] ترجمہ: ’’اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ‘‘۔ {وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَکُمْ خَشْیَةَ إِمْلَاقٍ} [الاسراء: 31] ترجمہ: ’’بھوک کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو‘‘۔ جیسے زنا ۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے۔ {وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّہُ کَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِیلًا} [الاسراء: 32] ترجمہ: ’’زنا کے قریب مت جائو بے شک یہ بہت بڑی بے حیائی اور بری راہ ہے‘‘۔ جیسے ناحق مال کھانا، اللہ رب العزت کا ارشاد ہے۔ {وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیمِ إِلَّا بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ} [الا نعام: 152]