کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 28
ترجمہ: ’’یتیم کے مال کے قریب مت جائو مگر اس طریقے سے جو احسن ہو‘‘۔ فرمان باری تعالیٰ ہے :{وَلَا تَأْکُلُوا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِہَا إِلَی الْحُکَّامِ لِتَأْکُلُوا فَرِیقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ } [البقرة: 188] ترجمہ :’’ اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھایا کرو، نہ حاکموں کو رشوت پہنچا کر کسی کا کچھ مال ظلم و ستم سے اپنا کر لیا کرو، حالانکہ تم جانتے ہو‘‘ ۔ اور فرمان باری تعالیٰ ہے :{ یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَأْکُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ } [آل عمران: 130] ترجمہ :’’اے ایمان والو! بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ تمہیں نجات ملے‘‘۔ یہ بھی اوران جیسےدیگرکبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنا۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :{ إِنْ تَجْتَنِبُوا کَبَائِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمْ مُدْخَلًا کَرِیمًا } [النساء: 31] ترجمہ :’’ اگر تم بڑے گناہوں سے بچتے رہو گے جس سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناہ دور کر دیں گے اور عزت و بزرگی کی جگہ داخل کریں گے‘‘۔یعنی جنت میں۔ (2) زہد فی الشبھات اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر اہلِ ایمان کو چاہئے کہ وہ مشتبہ امور سے بھی دور رہے۔ یہ بھی حصول زہد کے لئے ضروری ہے۔ اور اس کا حکم شبہات کی درجہ بندی کے اعتبار سے ہے۔ اگر شبہ حرام کے درجے میں ہے تو اس سے بچنا واجب ہے، وگرنہ مستحب ہے۔ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرمان سے اس کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’إِنَّ الْحَلَالَ بَیِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا مُشْتَبِھَاتٌ لَا یَعْلَمُہُنَّ کَثِیرٌ مِنْ النَّاسِ فَمَنْ اتَّقَی الشُّبُھَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِینِہِ وَعِرْضِہِ وَمَنْ وَقَعَ فِی الشُّبُھاتِ وَقَعَ فِی الْحَرَامِ کَالرَّاعِی