کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 34
محدث عراق کی نیکی اللہ تعالیٰ کو بہت پسند آ گئی تھی، جس کا نتیجہ یہ نکلا خود شیخ محترم کا بیان ہے کہ کچھ دنوں کے بعد میں مکہ مکرمہ سے روانہ ہوا، کشتی پر سوار ہو کر جا رہا تھا ، کہ سمندر میں طوفان آگیا، کشتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی، اکثر مسافر ڈوب گئے ، میں ایک تختہ پر بیٹھ کر سمندر کے کنارے ایک الگ جزیرہ میں آ گیا، وہاں لوگوں کے پاس گیا ، وہ الحمدللہ مسلمان تھے ، وہاں مسجد میں جا ٹھہرا ، نمازی نماز کے لئے آئے تو مجھ سے تعارف ہوا میں نے جو گزری تھی بیان کی لوگ مجھ سے مانوس ہو گئے ، میں وہاں مقیم ہو گیا انہیں اور ان کے بچوں کو تعلیم دینے میں مصروف ہو گیا۔ وہ میری شادی کی فکر کے حوالے سے میرے پاس آئے اور کہا : کہ’’ ہمارے یہاں ایک مالدار یتیم لڑکی ہے، تم سے بہتر اسے کوئی شوہر نہیں مل سکتا ‘‘ اس لئے ہماری خواہش ہے کہ اس لڑکی سے آپ نکاح کرلیں، بالآخر اس لڑکی سے عقد نکاح ہو گیا، جب خلوت میں بیوی سے ملا تو میری حیرت کی انتہاء ہو گئی ، کہ موتیوں کا وہ ہار جو بٹوا میں ملا تھا تھا وہ بیعنہ اس کے گلے میں ہے، میں نے اس ہار کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتلایا کہ وہ اس محترم کی بیٹی ہے جس کا ہار گم ہو گیا تھا، اس نے واپس گھر آکر ہار گم ہونے کا سارا قصہ ذکر کیا اور کہا جس شخص سے یہ ہار مجھے واپس ملا کاش اس شخص سے میری دوبارہ ملاقات ہو جائے تو اپنی لڑکی سے اس کا نکاح کردوں۔ مگر اسی دوران ان کا انتقال ہوگیا ۔ اس لڑکی کے علاوہ اس کی اور کوئی اولاد نہ تھی ، وہی اس کی وارث ہوئی ، شیخ فرماتے ہیں کہ ’’میری اس بیوی کے بطن سے اولاد بھی ہوئی بیوی انتقال کر گئی، کچھ دن بعد میرے وہ بچے بھی وفات پا گئے ، اور یوں بالآخر یہ ہار وراثۃََمیرے پاس آیا، جسے میں نے ایک لاکھ دینار میں فروخت کیا‘‘۔ شیخ فرماتے ہیں کہ میرے پاس جو کچھ مال و متاع ہے یہ اس ایک لاکھ دینار سے حاصل شدہ ہے۔