کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 35
زہدو تقویٰ اور ہمارے اسلاف جمشید سلطان اعوان مقدمہ ’إن الحمدَ للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ، ونعوذ باللہ من شرورِ أنفسنا وسیئاتِ أعمالنا، مَنْ یھْدِہِ اللہُ فلا مُضِلَ لَہ ومَنْ یُضْلِلْ فلا ہَادِیَ لَہ، وأشھد أن لا إلٰہ إلا اللہ الواحد القھار شھادۃ أدخرہا لیومٍ تذہل فیہ العقول وتشخصُ فیہ الأبصار‘ دنیا مستقل رہنے کی جگہ نہیں بلکہ سفر کی اور گزرجانے کی ہے ٹکنے کی جگہ نہیں ، عبرت کی جگہ ہے اور عیش وعشرت کا مقام نہیں۔ اور انسان محض اس میں ایک مسافر کی طرح ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آخرت کو دار القرار کا نام دیاہے ۔دنیا کا غنی دراصل فقیر ہے ، اس کاعزیز حقیقت میں ذلیل ہے،اس کی ہر شےکو فنا ہے اور اس کی محبت کو جفا ہے ،اس کے عروج کو زوال ہے اس کی لذتیں معدوم ہونے والی ، اس کی مجالس برخواست ہونے والی، بصیرت والی نظریں اس کی نعمتوں کو ابتلا و امتحان ہی گردانتی ہیں، مسکین ہیں وہ روحین جو اس کی نعمتوں پر ہی راضی ہو بیٹھی ہیں یہ دنیا پر جس کے حلال کا حساب دینا ہوگا اور اس کے حرام کے اختیار پر عقاب ہوگا ، جس کا غنی فتنہ میں گھرا ہے اور اس کا فقیر غم و حزن میں مبتلا ہے ،کوئی عقلمند کسی طرح دنیا ہی پر مطمئن ہوسکتا ہے کیسے کوئی عاقل اس دار رفاقت پر اکتفا کر سکتا ہے کیوں کر کوئی ہنس سکتا ہے جبکہ اس کی چاروں طرف ہم وغم کی، آہ و بکاکی فضا ہو اس کے بدلے کیسے کوئی جنت کوبیچتاہے اور بقا کے بدلے فنا کو خرید لیتاہے۔ ضرورت اس بات کی کے کہ ہم اس کی تیاری کریں جس کو دنیا کے برعکس بقاو دوام ہے جس کی کامیابی حق ہے جس کی زندگی لا محدود ہے ہمیں ان صفات کا حامل ہونا چاہئے جس چیز سے ہماری زندگی خالی ہوتی جارہی ہے اوربہت تلاش کرنے پر بھی کوئی شخص اس صفت کا حامل نہیں ملتاہے اوروہ جنس اتنی کمیاب بلکہ نایاب ہوچکی ہے کہ اب دن کی روشنی میں بھی تلاش کرنےسے اس صفت سے متصف لوگ نہیں ملتے!جس گراماں صفات کےبارے میں،یہ تمہید باندھی ہے اس کا نام زہد و تقویٰ اور ورع ہے۔ہماری زندگی میں عبادات موجود مگر دل کا تقویٰ و ورع نا پید ہےاگرچہ ہماری عبادات میں بھی تشویشناک کمی ہو گئی ہے۔ خشوع وخضوع یعنی اللہ کا خوف،خشیت الہٰی تقریباََہم خیال اگر ہم سفر ہوجائیں تو منزلیں آسان ہوجاتی ہیںناپید ہے(الامن رحم ربی اللہ ) تاہم موضوع ہذا میں ہم زہد و ورع اور سلف الصالحین کے نزدیک زہد و تقویٰ کا کیا معیار تھا بیان کرنے کی کوشش کریں گے ان شا ءاللہ اورہم ابتدا زہد کی تعریف سے کرتے ہیں اور اختتام میں ہم اس غلط فہمی کی نشاندہی بھی کریں گے جس طرح زہد کی غلط صورت رائج ومعروف ہے و باللہ التوفیق۔