کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 37
زہد کے مفہوم و مقصد کےحوالے سے اقوالِ سلف: سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ’تمام التقوی أن یتقی اللہ العبد، حتی یتقیہ من مثقال ذرة،وحتی یترک بعض ما یری أنہ حلال،خشیة أن یکون حراما،حجابا بینہ وبین الحرام[ کامل تقویٰ یہ ہے کہ بندہ اللہ سے ڈر جائے حتیٰ کہ ذرہ ذرہ کے بارے میں اسے اللہ کا خوف ہو اور حرام کے خوف سے چند حلال چیزیں بھی ترک کردے تاکہ و ہ حرام سے مکمل طور پر بچ جائے۔ ابراہیم بن ادہم کہتے ہیں کہ[الْوَرَعُ تَرْکُ کلّ شُبھةٍ،وترک مالایعنیک ہوترک الفضلات[  ترجمہ:’’زہدو ورع یہ ہے کہ ہر مشکوک ومشتبہ چیز،اورہر غیر ضروری معاملےسے بچا جائے،اورفاضل و زائداشیاء کو ترک کردیا جائے ‘‘۔ امام ثوری رحمہ اللہ کا قول ہے : [إنماسموا المتقین؛لأنھم اتقوامالا یُتَّقی ‘.[ ترجمہ: ’’متقین اس لئے متقی کہلائے کیونکہ انہوں نے ہر وہ چیز ترک کردی جس سے بچنے کا حکم تھا ‘‘۔ اور کسی سلف کا قول ہے کہ: [الْوَرَعُ الْخُرُوجُ مِنَ الشَّھَوَاتِ، وَتَرَکُ السَّیِّئَاتِ‘[ ترجمہ: ’’زہد و تقوی شہوات سے نکلنا اور گناہوں کو چھوڑ دینا ہے ‘‘۔ یونس بن عبید نے زہد کی تعریف یوں کی :[ الْوَرَعُ الْخُرُوجُ مِنْ کُلِّ شُبْھَةِ،ومحاسبة النفس فی کلِّ طرفة عین[ ترجمہ:’’ہر قسم کے شبہ سے بچنا اور ہر لمحہ کا محاسبہ کرنا ورع وتقویٰ کہلاتا ہے ‘‘۔