کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 7
جاری ہے ، وہ جب چاہتاہے اس ہوا کو طوفان اور آندھی بنا دیتاہے ۔ {وَأَمَّا عَادٌ فَأُہْلِکُوا بِرِیحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍ } [الحاقہ: 6] ترجمہ :’’ قومِ عاد کو زنّاٹے کی آندھی سے ہلاک کردیاگیا‘‘۔ {فَتَرَی الْقَوْمَ فِیہَا صَرْعَی کَأَنَّہُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍ} [الحاقہ: 7] ترجمہ :’’ اِس آندھی میں تُم یوں انہیں بچھڑا ہوا دیکھوگے ، گویا وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں ‘‘۔ یہ پانی جو بقائے حیات کے لیے ناگزیر ہے ، وہ جب چاہتے ہیں اسے طُغیانیوں میں بدل دیتے ہیں : { لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّہِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ } [ہود: 43] ’’ نوح علیہ السلام کی قوم سیلاب میں ڈوب گئی اور اُس کی زَدسے کوئی نہ بچ سکا ۔ ان کے سوا جن پر اللہ نے رحم کیا ۔‘‘ یہ آواز جو مطالب کے اظہار کے لیے ازبس ضروری ہے ۔ وہ جب چاہتے ہیں اُس آواز کو عذاب میں بدل دیتے ہیں ۔ {وَمِنْھمْ مَنْ أَخَذَتْہُ الصَّیْحَة} ’’ ان میں سے کچھ ایسے تھے جو چنگھاڑ کی گرفت میں آگئے ‘‘۔ یہ زمین جس پر ہم چلتے ہیں ، جب اس کی مشیت ہوتی ہے ، تو زمین انکار کردیتی ہے کہ ہم اُس پر چل سکیں : { وَمِنْہُمْ مَنْ خَسَفْنَا بِہِ الْأَرْضَ وَمِنْہُمْ مَنْ أَغْرَقْنَا وَمَا کَانَ اللَّہُ لِیَظْلِمَہُمْ وَلَکِنْ کَانُوا أَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُونَ} [العنکبوت: 40] ’’ ان میں سے کچھ ایسے تھے ، جنہیں ہم نے زمین میں دھنسادیا اور بعض کو ہم نے غرق کردیا ، اللہ تو کسی پر زیادتی نہیں کرتا ہے ، یہ انسان ہی ہیں جو اپنے آپ پر ظلم ڈھاتے ہیں ‘‘۔ وہ اللہ لطیف وحکیم ہیں ، جب چاہتے ہیں نعمت کو عذاب میں بدل دیتے ہیں ۔ مال اگر اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے ، تو اللہ کی نعمت ہے او ریہی مال اگر اللہ سے عزیز تر ہو جائے ، اندیشہ وغم کا باعث ہو اور بخل ، خست اور دنایت پر آمادہ کرے تو وہ عذابِ الٰہی بن جاتاہے ۔ اِسی طرح اولاد اگر صالح ہو تو اللہ کی دین ہے اور یہی اولاد اگر اللہ سے دُور ہٹادے اور حجاب بن جائے تو عذابِ الٰہی ہے ۔ ہاں اللہ کا عذاب کبھی مال اور اولاد کی صورت میںبھی ہوتاہے : {فَلَا تُعْجِبْکَ أَمْوَالُہُمْ وَلَا أَوْلَادُہُمْ إِنَّمَا یُرِیدُ اللَّہُ لِیُعَذِّبَہُمْ بِہَا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا } [التوبة: 55]