کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 8
’’ان کا مال ومنال اور اُن کی اولاد آپ کو حیرت میں نہ ڈالے ، یہ تو محض اِس لیے کہ اللہ اس دُنیا کی زندگی میں اُنہیں عذاب میں مُبتلا کرے ‘‘۔ طُغیانیاں اب بھی آتی ہیں ، طُوفان اب بھی اُٹھتے ہیں ، زلزلوں سے بستیاں اب بھی ویران ہوتی ہیں ، زمین میں بستیوں کے دھنس جانے کی خبریں اب بھی اخباروں ہم پڑھتے ہیں ، مگر ایک ایسی غفلت ہم پر چھاگئی ہے ، ایک ایسی قساوت دلوں پر طاری ہے کہ اِن بربادیوں کو دیکھتے ہیں ، تو کہتے ہیں کہ یہ محض اتفاقات ہیں ، جو اِس دُنیا میں رُونما ہوتے ہیں ۔ اللہ کہتاہے یہ محض اتفاقات نہیں ہیں : {فَأَخَذْنَاہُمْ بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ } [الا ٔعراف: 96] ’’ ہم نے اُن کی بد اعمالیوں کی پاداش میں انہیں چتھاڑا ‘‘ {فَمَا کَانَ اللَّہُ لِیَظْلِمَہُمْ وَلَکِنْ کَانُوا أَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُونَ } [التوبہ: 70] ’’ اللہ کی شان کے تو یہ شایان نہ تھا کہ وہ بے سبب لوگوں پر ہلاکت اور تباہی لاتا، مگر وہ خود اپنی جانوں پر پیہم ظلم ڈھاتے رہے ‘‘۔ وہ لوگ جن کے مزاج پربہیمیت کا غلبہ ہوتاہے ، ہمیشہ سے عذاب ِ الٰہی کو اتفاق قرار دیتے رہے ہیں ۔ شیطان اُن کے جی میں وسوسہ ڈالتاہے کہ تم دانشور ہو ، عبقری ہو، عذاب وثواب توہمات کی باتیں ہیں اور بے وقوف لوگ ان توہمات کو مانتے ہیں ۔ { قَالُوا أَنُؤْمِنُ کَمَا آمَنَ السُّفَہَاءُ أَلَا إِنَّہُمْ ہُمُ السُّفَہَاءُ وَلَکِنْ لَا یَعْلَمُونَ } [البقرة: 13] ’’ اُنہوں نے کہا کیا ہم اِن باتوں کو مان جائیں ، جیسے یہ بے وقوف لوگ مانتے ہیں ، سُن لو یہ لوگ خود بے وقوف ہیں مگر انہیں وقوف نہیں کہ وہ بیوقوف ہیں ‘‘۔