کتاب: جدید معیشت،تجارت مروجہ اسلامی بینکاری میزان شریعت میں خصوصی اشاعت - صفحہ 7
کتاب: جدید معیشت،تجارت مروجہ اسلامی بینکاری میزان شریعت میں خصوصی اشاعت مصنف: المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی پبلیشر: المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی ترجمہ: المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی سے جاری ہونیوالا سہہ ماہی البیان کا شمار جماعت مؤقر اور تحقیقی رسالوں میں ہوتا ہے ۔ زیر تبصرہ سہہ ماہی البیان کی خصوصی اشاعت اپنے اندر معیشت سے متعلقہ اہم عناوین پر مشتمل جماعت کے محقق اور جید علماء کے مضامین کو سموئے ہوئے ہے بالخصوص کچھ دہائیوں سے شروع ہونے والی نام نہاد اسلامی بینکار ی اور اس کی پروڈکٹز مضاربہ ، مرابحہ ، مشارکہ اور اجارہ کے حوالے سے تفصیلی طور پر حقیقت کو بیان کیا گیا اور ثابت کیا گیا کہ یہ قطعا اسلامی نہیں بلکہ سودی بینکاری ہی ہے۔ اس کے علاوہ معیشت سے متعلقہ دیگر موجوعات مثلا زراعت ، کرنسی ،اسٹاک ایکسچینج ،ایڈورٹائزمنٹ اور ان جیسے دیگر اہم ترین موضوعات پر مختلف اہل علم کے قیمتی مقالات شامل ہیں۔ اداریہ اسلامی بینکاری ایک تاریخی اورشرعی جائزہ خالد حسین گورایہ بینک ایک ایسا ادارہ ہے جو آج کے معاشی نظام میں اعصاب کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اور عصرِ حاضر میں جبکہ دنیا گلوبل ویلیج کی صورت اختیار کر چکی ہے اس ادارہ کے بغیر بڑی بڑی تجارتی منڈیاں چلانا تقریباً ناممکن ہوچکاہے ۔ مغربی بینکوں کے وجود میں آنے کے بعد اہل ِاسلام نے بھی اس میدان میں کوششیں شروع کردیں کہ بینکاری سسٹم کو شرعی خطوط پر استوار کیا جائے اور پوری دنیا میں کمرشل اور سودی بینکوں کے مقابلے میں اسلامی بینک بنائے جائیں ۔ ابتدا میں انفرادی سطح پر یہ سوچ پیدا ہوئی اور بالآخر اس نے اجتماعی شکل اختیار کرلی اور ایک اسلامی بینکاری سسٹم عملی طور پر متعارف کرادیا گیا اس سسٹم کے قیام کے لئے متعدد پلیٹ فارموں سے کاوشیں کی گئی جن کی تفصیل کچھ یوں ہے ۔ آغاز وارتقاء : اسلامی نظام بینکاری کوئی ساٹھ ستر دہائیوں پر محیط نظام ہے جس کا آغاز مصر سے 1963ء میں میت غمر کے اسلامک بینک کے قیام کی صورت میں ہوا تھا ۔اس سے قبل اس حوالے سے چند کاوشیں اور تجربے جنوبی ہند کی مسلم ریاست حیدرآباد میں بھی ہوچکے تھے۔ حیدرآباد دکن کے اس تجربے کے بعد1950ء، 1951 ء میں اس طرح کی ایک ہلکی سی کاوش پاکستان میں بھی ہوئی ۔ جس میں شیخ احمد رشاد نے کلیدی کردار ادا کیا ۔