کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 10

ہے جس میں یہ قرار دیا گیا کہ ہر شخص اپنی آمدنی کا صرف آٹھواں حصہ شادی میں صرف کرسکتاہے اس سے زائد کسی کو روا نہ ہوگا ۔ اور ااس آرڈی ننس میں اس اعتماد کا اظہار کیا گیا کہ ’’ اب یقین کامل ہے کہ آئندہ لڑکیاں ضائع نہ کی جایا کریں گی اور برابر والوں کے درمیان شادیاں ہوا کریں گی کیونکہ جب سالانہ آمدنی کا صرف آٹھواں حصہ شادی پر صرف کرنے کی قید لگادی گئی ہے تو کسی کو اندیشہ ہتک کا نہیں رہے گا اور کوئی شخص اس کو بار بھی نہ سمجھے گا ‘‘۔ لڑکیوں کی پیدائش کو برا سمجھنے اور ان کے ناحق قتل کے حوالے سے اس وقت عالمی قوانین بھی موجود ہیں لیکن وہ قوانین اتنے زیادہ مؤثر نہیں کیونکہ جس قانون میں للہیت نہیں وہ لوگوں پر ظاہری تو چند پابندیاں لگا سکتے ہیں لیکن انسان کی روحانی تربیت اور جرم کو جڑ سے ختم نہیں کرسکتے ۔اس لئے کہ ایک قطعی اور حتمی بات یہ ہے کہ جب تک بندے کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا نہیں ہوتا ، یوم آخرت پر اس کا ایمان صحیح نہیں ہوتا اس وقت تک ان تمام فرسودہ رسومات کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ۔ معاشرہ سے عورت پر جرائم وظلم کے خاتمے کیلئے اس وقت ملکی وعالمی قوانین کی حیثیت سے جو اقدامات کئے جارہے ہیں یا کئے جاچکے ہیں ان سے کہیں زیادہ بہتر ، اعلیٰ وارفع تعلیمات اسلام نے دی ہیں ۔ لڑکیوں کے قتل کی ممانعت کرتے ہوئے رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: { وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيْرًا} [الإسراء: 31] ترجمہ: اور مفلسی کے اندیشہ سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو ۔ انھیں اور خود تمہیں بھی رزق ہم دیتے ہیں۔ انھیں قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ نیز فرمایا: {وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ ۝ ۽بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ } [التكوير: 8، 9] ترجمہ: اور زندہ درگور لڑکی سے پوچھا جائے گاکہ وہ کس جرم میں ماری گئی تھی؟

  • فونٹ سائز:

    ب ب