کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 100

(4) بیٹی کو سمجھائیں کہ سسرال میں پیش آنے والے چھوٹے موٹے معاملات، معمولی تلخیاں یا کبھی کبھی تعلقات کی ناخوش گواریاں برداشت کی جائیں، صبر وتحمل اور دانش مندی سے ان کو سلجھایا جائے اور روزمرہ کے واقعات یا کبھی کبھی کی ناخوش گواریوں کاذکر اپنے ماں باپ سے نہ کیا جائے۔ اس سے والدین کے دلوں میں سسرالیوں سے نفرت پیدا ہوگی جو دونوں خاندانوں کے تعلقات میں خرابی اور بگاڑ کا باعث ہوگی۔ ہاں اگر واقعی سسرال والوں کا رویہ نئی دلہن کے ساتھ اچھا نہیں ہے، یہاں پیار کے بجائے اسے نفرت کا سامنا ہے،عدل وانصاف کے بجائے ظلم وستم کی گرم بازاری ہے اور اس کو گھر میں وہ قرار واقعی مقام نہیں دیا جارہا ہے جس کا وہ استحقاق رکھتی ہے تو پھر اس انہونی صورت حال سے والدین کو ضرور مناسب انداز سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ اس کا حل نکال سکیں تاہم عام حالات میں چھوٹی چھوٹی باتیں ماں باپ کو پہنچا کر ان کے سکون کو برباد کرنا نہ کوئی دانش مندی ہے اور نہ سسرال میں رہنے کا کوئی قرینہ وسلیقہ۔ (5) بعض مائیں پیشگی ہی اپنی بچی کو اس طرح کی پٹی پڑھا دیتی ہیں کہ دیکھنا وہاں کسی سے دب کر نہیں رہنا، اپنا رعب جمانے کی کوشش کرنا، کسی کی ماتحتی قبول نہیں کرنا، وغیرہ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عورت کو نئے گھر میں حکمت ودانش،پیار محبت اور تواضع وانکساری کے ذریعے سے اپناجو مقام بنانا ہوتا ہے، اس سنہری موقعے کو وہ ضائع کردیتی ہے اور ماں یا سہیلیوں کے پڑھائے ہوئے سبق پر عمل کرتے ہوئے محاذ آرائی کی فضا یا سرکشی کی سی صورت پیدا کر دیتی ہے اور یوں بنابنا یا کھیل سب بگڑ کر رہ جاتاہے اور حسین خوابوںکا شیش محل چکنا چور ہوجاتا ہے۔ اس لیے ماؤں کو اس قسم کا سبق بچیوں کو ہرگز نہیں پڑھانا چاہیے بلکہ اس کے برعکس اس کو برائی کو اچھائی سے ٹالنے کی اور عارضی تکلیفوں کے مقابلے میں صبر وحکمت سے کام لینے کی، بڑوں کا ادب واحترام اور چھوٹوں پر شفقت کرنے کی تلقین کرنی چاہیے۔ جیسا کہ ہمیں انہی باتوں کو اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :  "وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ"(حم السجده: 34)

  • فونٹ سائز:

    ب ب